انوارالعلوم (جلد 24) — Page 422
انوار العلوم جلد 24 422 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے جو زمانہ انبیاء و مامورین میں ہوتی ہے اس لئے جتناوہ نیکی اپنے اثر کو پھیلاتی ہے بدی اپنا اثر نہیں پھیلا سکتی لیکن پھر بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ میں ایک دفعہ جموں سے قادیان آرہا تھا کہ ایک سکھ لڑکا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت اخلاص اور محبت رکھتا تھا لاہور میں مجھے ملا اور اس نے مجھے کہا کہ آپ قادیان چلے ہیں حضرت مرزا صاحب کو میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ میں نے جب سے آپ سے ملنا شروع کیا تھا میرے اندر خد اتعالیٰ کی محبت ، ذکر الہی کی عادت اور دعاؤں کی طرف رغبت پیدا ہو گئی تھی مگر اب کچھ عرصہ سے آپ ہی آپ دہریت کے خیالات میرے اندر پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔میں نے بہتیر ازور لگایا کہ وہ خیالات نکلیں مگر نکلتے نہیں ان کے ازالہ کے لئے مجھے کوئی تدبیر بتائیں تاکہ میں ان خیالات کی خرابیوں سے بچ سکوں۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا کہ مجھے اس طرح فلاں لڑکا ملا تھا۔آپ نے فرمایا ہاں وہ ہم سے تعلق رکھتا ہے۔پھر آپ نے کہا اس نے مجھے کہا تھا کہ حضور کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچادیں کہ کچھ عرصہ سے میرے دل میں دہریت کے خیالات پید اہو رہے ہیں، معلوم نہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے۔آپ نے فرمایا جب اس کے اندر عقلی طور پر شبہات پیدا نہیں ہوئے تو یہ شبہات کسی اور کے اثر کا نتیجہ ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا میری طرف سے اُسے پیغام دے دیں کہ کالج میں جن لڑکوں کے در میان تمہاری سیٹ ہے معلوم ہوتا ہے وہ دہر یہ خیالات کے ہیں اور ان کا اثر تم پر پڑ رہا ہے اس لئے تم اپنی سیٹ بدل لو۔چنانچہ آپ نے اسے یہ پیغام پہنچا دیا۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت خلیفہ اول دوسری دفعہ جموں سے قادیان تشریف لا رہے تھے کہ پھر وہی لڑکا آپ کو ملا۔آپ نے فرمایا سناؤ اب کیا حال ہے؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اب میرے خیالات درست ہیں میں نے پیغام پہنچتے ہی سیٹ بدلوالی اور اُسی دن سے میرے خیالات بھی درست ہو گئے۔تو یہ ایک مجرب حقیقت ہے جس کا انکار کوئی جاہل ہی کرے تو کرے ورنہ