انوارالعلوم (جلد 24) — Page 420
انوار العلوم جلد 24 420 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے قلوب پر اثر پڑتا ہے۔مثلاً صف میں کسی کا پیر اگر ذرا آگے ہو جائے یا پیچھے ہو جائے تو یہ ایک معمولی بات ہے اور جہاں تک عبادت سے تعلق ہے اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس قوم کی صفیں ٹیڑھی ہو گئیں اس کے دل بھی ٹیڑھے کر دیئے جاتے ہیں۔تو دیکھو ایک چھوٹی سی بات کا کتنا عظیم الشان نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے۔پھر دیکھنے والوں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے چنانچہ ہم فوجوں کو دیکھتے ہیں تو سب فوجی ایک ہی شکل میں نظر آتے ہیں۔یورپ میں فوجوں کو مار چنگ کے وقت خاص طور پر ہدایت ہوتی ہے کہ سارے فوجی ایک طرح سے چلیں۔پیروں کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اس طرح پیر مارنا ہے۔سینہ کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اس طرح سینہ تاننا ہے۔گردن کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اس طرح گردن رکھنی ہے اور اس کا دیکھنے والوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔حضرت عمر کے زمانہ میں ایک مسلمان آیا تو اس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اسلام اپنے جو بن پر ہے پھر تو اس طرح اپنی مُردہ شکل کیوں بنائے ہوئے ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ انسان کی ظاہری شکل اس کے باطن پر دلالت کرتی ہے اور اس کی باطنی حالت کا اس کے ہمسایہ پر اثر پڑتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمَ فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ 2 جس شخص نے یہ کہا کہ قوم ہلاک ہو گئی وہی ہے جس نے قوم کو ہلاک کیا کیونکہ اس کی بات کا ہمسایہ پر اثر پڑتا ہے۔جب ایک شخص کہتا ہے کہ سارے بے ایمان ہو گئے ، سارے بددیانت ہو گئے تو بیسیوں آدمی ایسے ہوتے ہیں جو صرف اس کی بات پر اعتبار کر لیتے ہیں حقیقت نہیں دیکھتے وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں نے کہا ہے کہ سب بے ایمان ہو گئے ہیں یا فلاں نے کہا ہے کہ سب بد دیانت ہو گئے ہیں اور چونکہ فلاں نے یہ بات کہہ دی ہے۔اس لئے اب اس کے ماننے میں کیا روک ہے۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے مشہور ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے بہت دیر غائب رہا اس کے بیوی بچے اسے خط لکھتے کہ اگر ہمیں مل جاؤ مگر وہ نہ آتا وہ سمجھتا تھا کہ