انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 10

انوار العلوم جلد 24 10 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب جو اس کو وسیع کرنے والے لیتے ہیں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُّوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 7 یعنی اے علی میں تجھے اس غزوہ پر جاتے ہوئے ( آپ اس وقت غزوہ تبوک پر جا رہے تھے) اپنے پیچھے خلیفہ مقرر کر چلا ہوں اور تیری حیثیت میرے پیچھے ایسے ہی ہو گی جیسے ہارون علیہ السلام کی موسی کے پیچھے تھی لیکن اے لوگو! یہ امر یاد رکھو کہ علی میرے بعد نبی نہ ہو گا یعنی ہارون موسی کی غیبت میں نبی تھے مگر علی رضی اللہ عنہ آپ کے عرصہ مغیبت میں نبی نہیں ہوں گے۔( قرآن کریم میں بھی انتشار ضمائر کا اصول استعمال ہوا ہے اس لئے یہ اعتراض کی بات نہیں) پھر پرانے بزرگوں نے بھی لا نَبِيَّ بَعْدِی کے وہی معنی سمجھے ہیں جو احمدی بیان کرتے ہیں۔حضرت شیخ اکبر محی الدین صاحب ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں وو وہ نبوت جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے ساتھ منقطع ہوئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے مقام نبوت نہیں۔پس اب کوئی ایسی شریعت نہیں آئے گی جو آپ کی شریعت کی ناسخ ہو یا آپ کے احکام میں کوئی نیا حکم زائد کرے اور آپ کا یہ فرمان کہ رسالت اور نبوت ختم ہو گئی۔پس اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔اس کے بھی یہی معنی ہیں“۔8 پس مودودی صاحب احمدیوں پر فتویٰ لگانے سے پہلے حضرت عائشہ اور امام اکبر حضرت محی الدین صاحب ابن عربی پر بھی تو فتویٰ لگادیکھیں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ کہ وہ بھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ان کے متعلق بھی ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے (جسے در منثور نے نقل کیا ہے) کہ کسی شخص نے ان کے سامنے کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس پر مغیرہ نے کہا تیرے لئے یہ کافی ہے کہ تو یہ کہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں