انوارالعلوم (جلد 24) — Page 406
انوار العلوم جلد 24 406 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب تھا اور علماء کا حد سے زیادہ احترام اس کے دل میں تھا اور انتہاء درجہ کا سادہ اور طبیعت کا شریف تھا۔اتفاقی طور پر کچھ علماء اس کے پاس پہنچے اور اس کے ادب اور احترام کو دیکھ کر انہوں نے محسوس کیا کہ کامیابی کا ایک اور راستہ بھی ان کے سامنے کھل سکتا ہے۔ہمیں ان فسادات کے دنوں میں جو کچھ معلومات حاصل ہوئیں یا ہو سکتی تھیں خواہ مخالفوں کے کیمپ سے یا اپنے وفود سے جو کہ پاکستان کے وزیر اعظم سے ملے یہی معلوم ہو سکا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم سادہ اور شریف آدمی تھے۔ہمیں کبھی بھی ان کے متعلق یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ شرارت یا فساد کے لئے کوئی کام کرتے تھے مگر علماء کا ادب اور احترام اور ان کی سادگی اور دوسری طرف علماء کا فساد پر آمادہ ہو جانا ان کو دھکیل کر ایسے مقام پر لے گیا جبکہ وہ نادانستہ طور پر اس فساد کو آگ دینے والے بن گئے۔پاکستان میں اس وزیر اعظم کے آنے سے پہلے علماء کے دل میں یہ طمع کبھی نہیں پیدا ہوا کہ آئندہ حکومت ان سے ڈر کر ان کی پالیسیاں چلائے گی لیکن اس وزیر اعظم کے زمانہ میں یہ طمع علماء کے دل میں پیدا ہو گیا۔مولانا مودودی جو کہ پہلے کا نگر سی تھے پھر ہندو نواز تھے اور پاکستان بننے کے وقت پاکستان کے مخالف تھے آخری دن تک ان کی پاکستان میں آنے کی تجویز نہیں تھی۔وہ پاکستان کو مسلمانوں کے مفاد کے خلاف سمجھتے تھے ان کی جماعت کی بنیاد سرے سے ہی سیاسی ہے اور ان کا نظریہ یہی ہے کہ جس طرح ہو حکومت پر قبضہ کیا جائے اور پھر ان کے سمجھے ہوئے اسلامی نظام کو چلایا جائے۔ان کے اس نظریہ کی وجہ سے دوسری پارٹیوں سے مایوس شدہ سیاسی آدمی ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی جو جلد سے جلد حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اس کے ذریعہ سے ہم کو بھی رسوخ حاصل ہو جائے گا اور چونکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ بعد میں اسلامی نظام قائم کیا جائے گا اس لئے مذہب کی طرف مائل ہونے والے لوگ بھی ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کا انجمن اخوان المسلمین کے ساتھ تعلق بھی ظاہر کرتا ہے کہ در حقیقت ان کا مطلوب بھی سیاست ہے ان کا طریق عمل بھی بالکل اسی رنگ کا ہے۔مثلاً اسی کمیشن کے سامنے مولانا مودودی صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ فساد تو مذہبی تھا اور ان کی جماعت اسلامی یہ