انوارالعلوم (جلد 24) — Page 400
انوار العلوم جلد 24 400 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کیونکہ ایسے بڑے پیمانہ پر فسادات جن کو پولیس نہ دبا سکے اور انتظامی عملہ ناکام ہو جائے دو ہی وجہ سے پیدا ہوا کرتے ہیں یا تو صیغہ خبر رسانی کی شدید غفلت اور نا قابلیت کیوجہ سے یا عملہ انتظام کی عدم توجہ سے۔کیونکہ ایسے موقع پر جب کہ سول اور پولیس ناکام ہو جائے اور فوج کو دخل دینا پڑے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آبادی کی ایک کثیر تعداد اس میں شامل تھی یا آبادی کی ایک معقول تعداد ایسی منظم صورت میں فساد پر آمادہ تھی کہ فساد وسعت کی وجہ سے عام قانون کے ذریعہ سے اسے دبایا نہیں جاسکتا تھا اور یہ دونوں حالتیں یکدم نہیں پیدا ہو سکتیں۔ایک لمبے عرصہ کی تیاری کے بعد پیدا ہو سکتی ہیں اور ایک لمبے عرصہ کی تنظیم کے بعد یا ایک لمبے عرصہ کے اشتعال کے بعد ہی رونما ہو سکتی ہیں۔دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں بھی سول معاملات میں فوج کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی جب تک کہ معاملہ ہاتھوں سے نہیں نکل جاتا اور یہ ہمیشہ ہی عرصہ دراز تک نفرت کے جذبات کے سلگتے رہنے اور ایک عرصہ تک مخفی تنظیم کے بعد ہی ہو تا ہے۔تیسری صورت وہ ہوا کرتی ہے جبکہ کوئی ظالم شخص اپنے اشتعال سے مجبور ہو کر بلاضرورت فوج کو استعمال کرتا ہے تاریخ میں اس کی بھی مثالیں ملتی ہیں لیکن موجودہ مارشل لاء اس تیسری قسم میں شامل نہیں اس لئے لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ دار پنجاب حکومت تھی اور پنجاب حکومت نے 5 اور 6 (مارچ ) کو یہ محسوس کر لیا تھا کہ اب ہم امن کو اپنے ذرائع سے قائم نہیں رکھ سکتے اور مرکز کو دخل دینے کی ضرورت ہے پس چونکہ اس فیصلہ کی بنیاد صوبائی حکومت کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ مرکزی یا فوجی افسروں نے فوری اشتعال کے ماتحت ایک کام کر لیا حالا نکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔پس لازما یہی ماننا پڑے گا کہ وہ حالات جو فروری کے آخر یا مارچ کے شروع میں ظاہر ہوئے ایک لمبی انگیخت کے نتیجہ میں تھے اور ایک باضابطہ تنظیم کے ماتحت تھے جس کی وجہ سے باوجود اس کے کہ ہزاروں کی تعداد میں پولیس موجود تھی، سینکڑوں کی تعداد میں انتظامی افسر موجود تھے پھر بھی وہ لاہور کے