انوارالعلوم (جلد 24) — Page 7
انوار العلوم جلد 24 7 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اس پوزیشن کا لازمی نتیجہ ہے جو خود احمدیوں نے اختیار کر رکھی ہے اور وہ پوزیشن یہ ہے کہ:- (3-الف) ختم نبوت کی اُنہوں نے نئی تفسیر کی ہے جو مسلمانوں کی متفق علیہ تفسیر سے علیحدہ ہے اور اس مسلمانوں کی تفسیر سے صحابہ کرام بھی متفق تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوی نبوت کیا اور بعد کے مسلمان بھی یہی تعریف سمجھتے آئے ہیں لیکن احمدیوں نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مہر ہیں اور آئندہ جو نبی آئے گا وہ آپ کی تصدیق سے آئے گا۔(3-ب) اس تفسیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد متعدد نبی آسکتے ہیں۔(3- ج) اور یہ کہ شریعتِ اسلامی نے نبی کی جو تعریف کی ہے ان معنوں کے رُو سے حضرت مرزا صاحب مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں اور (4) (5) اس کے بعد انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب کو جو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔اور پھر انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا اسلام اور ہے اور مسلمانوں کا اسلام اور ہے۔ان کا خدا اور ہے اور مسلمانوں کا خدا اور ہے۔ان کا قرآن اور ہے اور مسلمانوں کا قرآن اور ہے۔ان کا حج اور ہے اور مسلمانوں کا حج اور ہے۔اور اس اختلاف کو مزید کھینچ کر (6- الف) انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنانا جائز قرار دے دیا۔(6) (6-ب) ان کا جنازہ پڑھنا ناجائز قرار دے دیا۔(6-ج) ان کو لڑکی دینا نا جائز قرار دے دیا۔(7) اور عملاً بھی وہ مسلمانوں سے کٹ گئے اور یہ کام اُنہوں نے ترک کر