انوارالعلوم (جلد 24) — Page 372
انوار العلوم جلد 24 372 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان کے الفضل میں شائع ہوا اور جس میں آپ سے ایک اخباری نمائندہ نے ایک سوال کیا اور آپ نے اُس کا جواب دیا؟ سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان عملاً ممکن ہے؟ جس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اس سوال کو دیکھا جائے تو پاکستان ممکن ہے لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ملک کے حصے بخرے کرنے کی ضرورت نہیں۔جواب: یہ صحیح ہے کہ ایک اخباری نمائندے نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا مذ کورہ بالا الفاظ اس کا ایک اقتباس ہے جو کچھ اس میں کہا گیا وہ تقسیم کے سوال پر میری ذاتی رائے تھی۔سوال: کیا آپ نے 14 مئی 1947ء کو نماز مغرب کے بعد اپنی مجلس علم و عرفان میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے جو 16 مئی 1947ء کے الفضل میں شائع ہوئے۔میں قبل ازیں بتا چکاہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی ہونا پڑے تو یہ اور بات ہے۔بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہو تا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں۔اور صرف اُسی وقت جب اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کونسا جاہل انسان اس کے لئے کوشش نہیں کرے گا۔اسی طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح جلد تر متحد ہو جائے۔“ جواب: نہیں۔میں نے بالکل انہی الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا تھا۔جو کچھ میں نے کہا اُسے بہت حد تک غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔جس شخص نے میری تقریر