انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 5

انوار العلوم جلد 24 5 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب کیا گیا ہے اور کوثر “ ( 25 جنوری 1953ء) بھی یہی تسلیم کرتا ہے کہ جنوری 1951ء میں جو علماء بلوائے گئے تھے انہی کو آئندہ بلوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن باوجود اس کے ”کوثر “ یہ لکھتا ہے کہ بلوائے جانے والے علماء 33 تھے۔قطع نظر اس کے کہ 31 یا 33 جو تعداد بھی تھی آیا سارے پاکستان میں اتنے ہی علماء ہیں اور اگر اس سے زائد تعداد علماء کی ہے تو صرف ان 31 یا 33 کو کس بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔ہم یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جب جنوری 1951ء میں 31 علماء کا اجتماع ہوا تھا اور جب جنوری 1953ء میں یہ فیصلہ کر دیا گیا تھا کہ ان 31 علماء سے زائد کوئی آدمی نہیں لیا جائے گا تو پھر یہ 31 کا عدد 33 کس طرح ہو گیا؟ آیا علماء اس چودھویں صدی میں بھی حساب سے اتنے ناواقف ہیں کہ وہ 31 اور 33 میں فرق نہیں سمجھ سکتے یا اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کی اکثریت تقویٰ سے اتنی عاری تھی کہ جن علماء نے اس میں شمولیت کا مطالبہ کیا تھا ان کو تو اس نے یہ جواب دے دیا کہ 31 علماء سے زائد کسی اور کو نہیں بلایا جائے گا اس لئے آپ کو نہیں بلایا جاسکتا اور بعد میں اپنی کسی ذاتی غرض کے ماتحت دو اور علماء بیچ میں شامل کر لئے لیکن یہ بھی ہو تب بھی یہ اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ وہ علماء جو انتخاب کی باریکیوں پر اپنی رپورٹ میں اتنا زور دیتے ہیں اُنہوں نے علماء کے بورڈ کے انتخاب کے وقت کیوں کسی قاعدہ کو ملحوظ نہیں رکھا اور کیوں آپ ہی آپ ایک جماعت نے اپنے آپ کو لیڈر بنا کر گور نمنٹ کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔مطالبہ اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کی (2) دوسری بات مولانا مودودی صاحب نے یہ لکھی ہے کہ رائے اور پاکستان کے اکثر صوبوں با وجود اس کے کہ یہ مطالبہ کے عوام کی رائے کے خلاف تھا۔قادیانی مسئلہ کا بہترین حل ہے۔و تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد بھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے ماسوا دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں ابھی عوام الناس بھی پوری