انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 4

انوار العلوم جلد 24 4 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب کی جو مجلس 16 جنوری 1953ء کو کراچی میں ہوئی تھی اس میں 31 علماء تھے اور کراچی کے بعض دوسرے علماء نے شور مچایا تھا کہ اور علماء کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے لیکن ان 1 3 علماء نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ گزشتہ اجتماع میں جو علماء شریک ہوئے تھے وہی شریک کئے جائیں زیادہ نہیں اور اس خبر کا ہیڈ نگ یہ دیا گیا کہ:- 31 علماء کے اجتماع میں مزید علماء کو شریک نہیں کیا جائے 1" وو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 31 علماء کا ایک بورڈ بنا تھا 3 3 کا نہیں اور جب بعض دوسرے علماء نے اس بورڈ میں شمولیت کا مطالبہ کیا تو انہیں جواب دیا گیا کہ 31 سے زائد کوئی شخص شامل نہیں کیا جاسکتا لیکن لطیفہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت کے تسنیم “اخبار نے وو 17 جنوری کی اشاعت میں تو یہ بات شائع کی اور اسی جماعت کے دوسرے اخبار ”کوثر “ نے 25 جنوری کو یہ خبر شائع کی کہ :- ”دستوری سفارشات پر غور کرنے کے لئے پاکستان بھر کے 33 علماء کا جو اجتماع کراچی میں 10 جنوری سے ہو رہا تھا اس نے مسلسل آٹھ روز غور کے بعد دستوری سفارشات کے متعلق اپنی مفصل رائے پیش کر دی ہے “۔اور آخر میں لکھا کہ 22 دسمبر 1952ء کو جب دوبارہ اس مجلس کا اجلاس بلائے جانے کا فیصلہ ہوا تھا تو یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ انہی احباب کو دعوت دی جائے جو جنوری 1951ء کے اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔2 ترجمان القرآن جلد 35 عدد 4,3 1951ء میں بھی جنوری 1951ء میں منعقد ہونے والے اجلاس کی تشریح شائع ہو چکی ہے اور اس میں بھی 31 علماء کے اجتماع کا ذکر ہے۔گویا ترجمان القرآن جنوری، فروری 1951ء 31 علماء کے اجتماع کا دعویٰ کرتا ہے اور جماعت اسلامی کا اخبار تسنیم “ بھی اپنی 17 جنوری 1953ء کی اشاعت میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ 31 علماء ہی اس اجتماع میں شریک تھے اور انہی کو آئندہ شامل کرنے کا فیصلہ دد