انوارالعلوم (جلد 24) — Page 3
انوار العلوم جلد 24 3 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی وو ” اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب ( تحریر کردہ نومبر 1953ء) مولانا مودودی صاحب نے ایک رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ مارچ 1953ء میں شائع کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب اس وقت تک ایک لاکھ کے قریب مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔چونکہ ملک کے حالات ایسے تھے کہ لوگوں کی طبائع میں بہت کچھ جوش تھا اور مودودی صاحب نے ظلم سے کام لیتے ہوئے ایسے رنگ میں احمدیوں کے خلاف مضمون شائع کیا تھا کہ جس سے طبائع میں اشتعال پیدا ہو جائے اس لئے جماعت احمدیہ نے خیال کیا کہ کچھ عرصہ تک اس مضمون کا جواب نہ دیا جائے اور دیکھا جائے کہ اس خاموشی کا کیا اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ اس خاموشی کا کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑا اور چونکہ اب تک جماعت احمدیہ کی نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے کوئی جواب اس رسالہ کا شائع و نہیں ہوا اس لئے ہم مزید انتظار نہ کرتے ہوئے اس کتاب کا جواب شائع کرتے ہیں۔قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے (۱) سب سے اول مودودی صاحب نے کہا ہے کہ 31 علماء ( یا 33 علماء) نے فیصلہ کیا قادیانیوں کو جُدا گانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ 33 سر بر آوردہ علماء نے کیا۔مودودی صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ علماء