انوارالعلوم (جلد 24) — Page 325
انوار العلوم جلد 24 325 سیر روحانی (7) جہاں نو بتیں بجاتے تھے اُن کی نوبت کبھی ساتویں دن بجتی تھی اور بادشاہ کا دیدار ہو تا تھا، کسی کی مہینہ میں بجتی تھی اور بادشاہ کا دیدار ہو تا تھا، کوئی اپنی تخت نشینی کے دنوں میں دو تین دن دربار لگایا کرتا تھا اور پھر جب اُن کی نوبت بجتی تھی تو لوگوں کو اپنے گھروں سے نکل کر بادشاہی قلعوں میں جانا پڑتا تھا یا بہت دُور دُور سینکڑوں میل سے چل کر وہاں جانا پڑتا تھا۔لیکن اسلامی نوبت خانہ جو ہمارے بادشاہ کا دیدار کرانے کے لئے بجتا ہے وہ ہر شہر اور ہر گاؤں میں دن رات میں پانچ وقت بجتا ہے۔پانچ دفعہ نوبت بجتی ہے کہ آؤ اور اپنے بادشاہ کی زیارت کر لو، آؤ اور خدا کا دیدار کرو۔ابھی ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی ہوئی ہے پاکستان تک سے لوگ وہاں دیکھنے کے لئے گئے حالانکہ ملکہ الزبتھ کیا، انگلستان آج ایک سیکنڈ گریڈ پاور بنا ہوا ہے۔لیکن ملکہ الزبتھ کے دیکھنے کے لئے ہندوستان سے آدمی گئے، امریکہ سے گئے ، جرمنی سے گئے، انڈونیشیا سے گئے ، چین سے گئے اور ہمارے بادشاہ کی زیارت کے لئے کہ جس کے سامنے آنکھ اُٹھانے کی بھی ملکہ الزبتھ کو طاقت نہیں روزانہ پانچ وقت بلایا جاتا ہے کہ آؤ کر لو زیارت مگر لوگ ہیں کہ نہیں آتے۔دو گھر کا گاؤں ہو تو وہاں بھی وہ بادشاہ پانچ وقت آتا ہے ، پانچ گھر کا گاؤں ہو تو وہاں بھی بادشاہ لوگوں کو اپنی زیارت کرانے کے لئے پانچ وقت آتا ہے، اگر سو گھر کا گاؤں ہو تو وہاں بھی وہ زیارت کرانے کے لئے آتا ہے، اگر لاکھ گھر کا شہر ہو تو ہر محلہ میں وہ آجاتا ہے کہ آؤ اور زیارت کر لو اور اگر دس لاکھ گھر کا شہر ہو تو اُس میں وہ دس ہزار جگہوں میں آجاتا ہے اور پانچ وقت آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ آؤ اور میری زیارت کر لو۔یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے دنیوی نوبت خانوں اور اسلامی نوبت خانہ میں کہ پانچ وقت زیارت ہوتی ہے اور جہاں بیٹھیں وہیں ہو جاتی ہے اور بادشاہ آپ ہمارے گھروں میں آجاتا ہے۔اب ذرا اس نو بت خانہ کا اعلان اسلامی نوبت خانہ کا پُر ہیبت اعلان بھی سُن لو۔وہاں تو یہ ہوتا ہے کہ وهم وَھم دھم وھم ہو رہا ہے یا نہیں پہیں ہو رہا ہے اور جب پوچھا جاتا ہے کہ یہ دھم دھم