انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 317

انوار العلوم جلد 24 317 سیر روحانی (7) جہ یہ تھی کہ میں ایک جگہ ایک قبیلہ میں مہمان تھا۔انہوں نے کہا ہم نے کچھ مسلمان گھیرے ہیں چلو تم بھی لڑائی میں شامل ہو جاؤ۔مجھے اس وقت مسلمانوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔میں اپنے دوستوں کی خاطر چلا گیا۔وہاں انہوں نے ایک صحابی کو نیچے اُتارا اور اُس کے سینہ میں نیزہ مارا۔جب نیزہ مارا گیا تو اس نے کہا فُرتُ وَ رَبِّ الكَعْبَة - 13 مجھے کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔کہنے لگا میں سخت حیران ہوا۔مجھے مسلمانوں کے متعلق کچھ پتہ نہیں تھا۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ کوئی پاگل تھا کہ تم نے اس کو نیزہ مارا اور یہ گھر سے دُور بے وطنی میں اور اپنے رشتہ داروں سے الگ بجائے اس کے کہ روتا چلاتا یہ کہتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا۔کامیابی اس نے کونسی دیکھی ہے ؟ انہوں نے کہا مسلمان پاگل ہی ہوتے ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ موت میں بڑی خوبی ہے۔جب انہیں مارا جائے تو کہتے ہیں ہم کامیاب ہو گئے۔وہ کہتا ہے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی قوم کو تو دیکھنا چاہئے چنانچہ میں چوری چوری نکلا اور مدینہ گیا۔وہاں دو تین دن رہنے کے بعد اسلام کی صداقت ثابت ہو گئی اور میں مسلمان ہو گیا۔پھر انہوں نے گرتا اُٹھایا اور کہنے لگا دیکھو! میرے بال کھڑے ہیں میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو بال کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ایسا نظارہ تھا کہ جنگل میں ایک شخص اپنے وطن سے ڈور فریب اور دھوکا بازی سے مارا گیا مگر بجائے اس کے کہ وہ غم کر تار و تا اور اپنے بیوی بچوں کو یاد کرتا وطن کو یاد کرتا وہ کہتا ہے فُزْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَة- کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔اس کے مقابلہ میں کا فر کو کیا اُمید ہو سکتی ہے اس کے لئے بھا گنا تو جرم ہے ہی نہیں۔ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ بھا گو گے تو جہنم میں جاؤ گے اس لئے مسلمان تو بھاگ سکتا ہی نہیں وہ آخر وقت تک کھڑا رہے گا۔اس کے لئے صرف دو ہی صورتیں ہیں تیسری کوئی صورت نہیں۔یا تو وہ مر جائے گا اور یا جیت جائے گا اور دونوں اُس کے لئے اچھی باتیں ہیں۔جیتے گا تو جیت گیا اور مرے گا تو جنت میں جائے گا۔اور کافر یا تو مر گیا اور دوزخ جائے گا اور یا بھاگے گا اور شکست کھائے گا۔اور جسے ایک طرف اپنی شکست کا