انوارالعلوم (جلد 24) — Page 309
انوار العلوم جلد 24 309 سیر روحانی (7) میں تو۔۔۔۔۔کہنے لگا۔میں میں کوئی نہیں۔تم نے تقریر کی چھ مہینے قید۔مجھے پتہ لگا تو میں نے گورنر کے پاس اپنا آدمی بھجوایا اور میں نے کہا۔ایسے احمق تم لوگ ہو کہ وہ تو یہ تقریر کرتے ہیں کہ ہڑتال نہ کرو اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں اور تم اُس کو بجائے انعام دینے کے سزا دیتے ہو۔خیر یہ ایسی حیرت انگیز بات تھی کہ آدمی نے مجھے بتایا کہ چیف سیکرٹری نے اُسی وقت تار کے ذریعہ پولیس کی ڈائری منگوائی۔مسل میں دیکھا تو لکھا تھا کہ تقریر یہ کی کہ تم کیوں ہڑتالیں کرتے ہو اس سے بیوائیں اور غریب مارے جاتے ہیں۔اِس پر اُس نے تار کے ذریعہ احکام دیئے کہ مولوی صاحب کو چھوڑ دیا جائے اور سمتھ کو اُس نے ڈسمس کر دیا کہ تم انگلینڈ واپس چلے جاؤ۔تو یہ حال تھا کہ یہ پوچھنا بھی پسند نہ کیا تقریر کی کیا؟ بس تقریر کرنا کافی ہے چھ مہینے قید۔لیکن اسلام کہتا ہے کہ ڈرانا نہیں۔ایام غدر میں انگریز افسروں کی بربریت غدر کے واقعات دیکھ لو وہاں کی بھی تخویف ہی نظر آتی ہے۔ہماری نانی اماں سنایا کرتی تھیں کہ غدر کے وقت میں چھوٹی تھی۔میرے والد بیمار ہو گئے فوج میں ملازم تھے لیکن اُن دنوں بیمار تھے اور ڈیڑھ ماہ سے چار پائی سے نہیں اُٹھے تھے میری پانچ چھ سال کی عمر تھی، ہلدی کی طرح اُن کی شکل ہو گئی تھی چارپائی پر پڑے تھے۔جب انگریز فوج آئی یکدم سپاہی اور انگریز افسر اندر آئے اور وہ اسی طرح گھروں میں گھتے تھے ساتھ کچھ ہندوستانی جاسوس لئے ہوئے تھے افسر نے کہا یہاں کوئی ہے ؟ انہوں نے میرے باپ کی طرف اُنگلی اُٹھائی کہ یہ بھی لڑائی میں شامل تھا۔انہوں نے کہا میں تو بیمار پڑا ہوں کہیں گیا ہی نہیں اس پر افسر نے پستول نکالا اور اُسی وقت انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیکن وہاں یہ حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عزیز اور آپ کا ایک کی ایک صحابی پر شدید ناراضگی مقرب صحابی ایک جنگ پر جاتا ہے اور جب وہ ایک شخص کو مارنے لگتا ہے تو وہ کہتا ہے صبوت میں صابی ہو گیا ہوں۔وہ لوگ اسلام کا نام