انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 308

انوار العلوم جلد 24 308 سیر روحانی (7) مسٹر مانٹیگو جو پہلے وزیر ہند تھے انہوں نے خود ذکر کیا کہ یہاں ایک انگریز افسر تھا وہ کسی سے ذرا ترش کلامی سے بولا تھا تو ہم نے اُسے پہلی سزادی تھی۔اس سے پہلے کسی افسر کو سزا نہیں دی تھی۔وہی اُن دنوں بدل کے وزیر آباد میں لگا تھا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی شہر میں اچھا رسوخ رکھتے تھے اور لوگوں کے ساتھ اُن کا حُسن سلوک تھا۔مسلمانوں میں سے اکثر اُن کے شاگر د تھے اور ہندو بھی اُن کا بڑا ادب کرتے تھے۔وہ گلی میں سے گزر رہے تھے اور اُس دن رولٹ ایکٹ کے خلاف جلسہ ہو رہا تھا۔ہند و مسلمان اکٹھے ہو کر کہہ رہے تھے کہ بائیکاٹ کرو، ہڑتالیں کرو، یہ کرو وہ کرو۔پاس سے یہ گزرے تو لوگوں نے کہا۔آئیے آئیے مولوی صاحب ! آپ نے نہیں تقریر کرنی۔انہوں نے کہا میں نے تو تمہارے خلاف تقریر کرنی ہے اگر تم نے وہ تقریر من لینی ہے تو چلو۔انہوں نے کہا۔ہمیں یہ بھی منظور ہے آپ خدا کے لئے ضرور تشریف لے چلیں۔وہاں کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا۔تم ہڑتال کا وعظ کر رہے ہو لیکن تم نے سال سال کا غلہ گھر میں رکھا ہوا ہے، ہڑتال کر کے تمہارا کیا نقصان ؟ روٹی تمہارے گھر میں موجود ہے، ایندھن تمہارے گھر میں موجود ہے ، بھینسیں تمہارے گھروں میں ہیں، گھی گھر تو تمہارے گھر میں موجود ہے، مصالحہ تمہارے گھروں میں ہے، دالیں تمہارے پاس موجود ہیں تین دن بھی ہڑتال ہوئی تو تمہیں پتہ نہیں لگے گا۔لیکن وہ بیوہ عورت جو چکی پیس کر شام کو کھانا کھاتی ہے اُس کا کیا بنے گا تمہاری اس ہڑتال سے وہ مرے گی تمہارا تو نقصان نہیں۔یہ کہہ کے بیٹھ گئے۔انہوں نے اِس کو برداشت کر لیا اور کہا اچھی بات ہے ہم ہڑتال نہیں کریں گے۔جب رولٹ ایکٹ کے بعد ہر جگہ مجسٹریٹ مقرر کئے گئے اور مجرم پکڑے گئے تو اُن کا نام بھی پولیس نے ڈائریوں میں بھیجا کہ انہوں نے تقریر کی تھی لیکن آگے لکھا کہ انہوں نے تقریر یہ کی کہ ہڑتال نہیں کرنی چاہئے اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔حافظ صاحب بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔اُس نے کہا۔آپ نے تقریر کی۔وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو حکومت کی تائید میں ہیں حافظ صاحب نے کہا۔میں نے تقریر کی تھی مگر۔۔۔۔اس نے کہا ہم مگر وگر نہیں جانتے چھ مہینے قید۔انہوں نے کہا۔