انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 296

انوار العلوم جلد 24 296 سیر روحانی (7) انصاف کی تعلیم دی ہے اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم کسی سے بے انصافی کر بیٹھو۔دشمن بھی ہو تو پھر بھی انصاف کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔تقویٰ اختیار نہ کرو گے تو سزا ملے گی گویا اس میں یہ نصیحت کی کہ :- اوّل ہر کام اللہ تعالیٰ کے لئے کرو کسی اور غرض کے لئے نہیں کہ اس غرض کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر راستہ بدل لو۔دوم خدا تعالیٰ نے جو معیارِ انصاف مقرر کیا ہے اُس کا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرو اگر وہ نمونہ پیش نہ کرو گے تو لوگ کہیں گے ان کو خدا کی یہ تعلیم نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں بلکہ اور تعلیم ہے۔ایک ہندو سے حسن سلوک کا شاندار نمونہ سوم اگر کوئی ظلم بھی کرے تو جوش میں آکر ظلم نہیں کرنا بلکہ عدل کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا۔مجھے اس پر اپنا ایک واقعہ یاد آگیا۔رتن باغ (لاہور) میں ہم رہتے تھے اُس کا مالک چونکہ ایک بارسوخ شخص تھا اور اُس کا بھائی ڈپٹی کمشنر تھاوہ گورنمنٹ کی چٹھی لکھوا کے لایا کہ اُن کا سامان اُن کو دے دیا جائے۔یہاں کے افسر اُسوقت بہت زیادہ لحاظ کرتے تھے انہوں نے فوراً لکھدیا کہ ان کو یہ سامان دے دو۔ہم جب گئے ہیں تو اُس وقت تک وہ لُوٹا جا چکا تھا دروازے توڑے ہوئے تھے اور بہت سا سامان غائب تھا اور پولیس اُس زمانہ میں ایک لیسٹ بنالیا کرتی تھی کہ یہ یہ اس مکان میں پایا گیا ہے اور چونکہ اُن دنوں ایک دوسرے پر ظلم ہو رہے تھے وہ بہت رعایت کرتے تھے۔کیسٹیں عام طور پر نا قص بناتے تھے مثلاً اگر پچاس چیزیں ہوئیں تو چالیس لکھ لیں اور دس رہنے دیں اور کہہ دیا تم لے لو یہ طریق یہاں عام تھا۔جب ہم وہاں گئے تو میں نے حکم دیا کہ جتنی چیزیں لسٹ سے زائد ہیں وہ جمع کر کے ایک طرف رکھ دو۔چنانچہ وہ سب چیزیں رکھ دی گئیں۔جب وہ علم لا یا تو وہ چیزیں جو لکھی ہوئی تھیں وہ دے دی گئیں۔پاس سرکاری افسر بھی تھے اور پولیس بھی تھی۔اس کے بعد میں نے