انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 273

انوار العلوم جلد 24 273 سیر روحانی (7) جس کی خاطر کیا وہ اُس کا باپ تھا اور جن کو کیا وہ اُسکے بھائی تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چوں اور بھائیوں کو ایک غلام کی جوتیوں کے طفیل معاف کیا۔بھلا یوسف کا بدلہ اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔غرض یہ دوسری خبر تھی نوبت خانہ کی اور پھر کیسی عظیم الشان خبر دی کہ دو سال پہلے بتا دیا جاتا ہے کہ یہ یہ حالات پیدا ہونے والے ہیں۔کفار کی طرف سے معاہدہ شکنی ہو گی۔تم حملہ کیلئے جاؤ گے اور انہیں تباہ کر کے اسلامی حکومت کو قائم کر دو گے۔قرآنی نوبت خانہ کی تیسری خبر اب تیسری خبر میں مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں۔عرب کا ملک ایسا ویران تھا اور ایسا بنجر اور ناقص تھا کہ اُس کی طرف کوئی نظر اُٹھا کے نہیں دیکھتا تھا۔مؤرخین نے بحث کی ہے کہ سکندر نے ساری دنیا فتح کی لیکن عرب فتح نہیں کیا اِس کی کیا وجہ تھی ؟ وہ کہتے ہیں اُس نے اِسکو اس لئے نہیں چھوڑا کہ عرب کوئی طاقتور ملک تھا بلکہ اِس لئے چھوڑا تھا کہ یہ ہڈی کتے کے قابل تھی سکندر کے قابل نہیں تھی۔اس میں کوئی چیز ہی نہیں تھی پھر سکندر نے وہاں کیوں جانا تھا، یہ ہڈی اُس کے کھانے کے قابل ہی نہیں تھی۔پھر قیصر و کسری ادھر بھی لڑتے تھے اُدھر بھی لڑتے تھے مگر عرب کو چھوڑ دیتے تھے۔یمن کو لے لیتے تھے کیونکہ وہ ذرا آباد ملک تھا مگر عرب کو چھوڑ دیتے تھے اور کہتے تھے ہم نے اس صحرا کو لے کر کیا کرنا ہے۔غرض ہزاروں سال سے عرب کے قبائل آزاد چلے آتے تھے اس لئے نہیں کہ اُن میں دم خم تھا بلکہ اس لئے آزاد چلے آتے تھے کہ عرب کے اندر کچھ رکھا ہی نہیں تھا کہ کوئی وہاں جائے اور اُسے فتح کرے۔ایسے زمانہ میں جبکہ عرب دنیا میں نہایت ذلیل ترین سمجھا جار ہا تھا، الہی نوبت خانہ میں نوبت بجتی ہے اور وہاں سے آواز آتی ہے قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتَدْعَوْنَ إلى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ اَوْ يُسْلِمُونَ 27 وَأَخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدُ احَاطَ اللهُ بِهَا - 28