انوارالعلوم (جلد 24) — Page 260
انوار العلوم جلد 24 260 سیر روحانی (7) مکہ والوں کی طرف سے لوگوں نے اُس کے متعلق کہا کہ یہ مسلمانوں ، مل گیا ہے۔عربوں میں یہ دستور تھا کہ ابو سفیان پر غداری کا الزام جب کسی پر ایسا الزام لگے تو جا کر خانہ کعبہ کے سامنے قربانی کرتا تھا اور اُس قربانی کا خون اپنے ماتھے پر ملتا تھا اور پھر قوم کے آگے اعلان کرتا تھا کہ میں نے کوئی غداری نہیں کی۔وہ اُس کے متعلق سمجھتے تھے کہ اب یہ جھوٹ نہیں بول سکتا اور وہ اس کو بڑا عذاب سمجھتے تھے۔اسی دستور کے مطابق اس نے بھی خانہ کعبہ کے آگے قربانی کی۔اُس کا خون لے کر اپنے ماتھے کو ملا اور پھر قوم کے آگے جا کر کہا کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے جو کچھ ہو سکا کیا ہے۔میں نے اُن کے ساتھ اور کوئی معاہدہ نہیں کیا۔20 چنانچہ اس پر لوگوں کو تسلی ہو گئی۔مگر اب اُن میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے حملہ ہو جائے تو کیا بنے گا؟ رؤسائے مکہ میں گھبراہٹ کچھ دنوں تک مدینہ سے خبریں نہ پہنچیں۔جب کوئی خبر نہ پہنچی تو ان کی گھبراہٹ اور بھی زیادہ بڑھتی چلی گئی کہ اگر خزاعہ والے وہاں گئے ہیں تو محمد رسول اللہ نے کچھ نہ کچھ تو ضرور کہا ہو گا۔یا تو یہ کہا ہو گا کہ ہم نہیں کر سکتے یا یہ کہا ہو گا ہم کرتے ہیں۔کچھ تو پتہ لگتا یہ خاموشی کیسی ہے ؟ تین چار روز کے بعد انہوں نے ابوسفیان سے کہا کہ تم روز جایا کرو اور جاکے چکر لگا کر دیکھا کرو کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر تو نہیں آرہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال ادھر ابوسفیان مکہ کی طرف روانہ ہوا اُدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی فتح مکہ کے لئے تیاری اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میر اسامانِ سفر باندھنا شروع کرو۔انہوں نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا اور حضرت عائشہ سے کہا۔میرے لئے ستو وغیرہ یا دانے وغیرہ بھون کر تیار کرو۔اسی قسم کی غذائیں اُن دنوں میں ہوتی تھیں۔چنانچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کے دانوں سے نکالنی شروع کی۔حضرت ابو بکر گھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پوچھا عائشہ؟