انوارالعلوم (جلد 24) — Page 253
انوار العلوم جلد 24 253 سیر روحانی (7) چنانچہ رات جو مقرر تھی اس رات وقتِ مقررہ پر بنو بکر کا لشکر اور قریش کا لشکر مل کر وہاں گیا اور انہوں نے خزاعہ پر حملہ کر دیا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہم سجدے کر رہے تھے اور رکوع میں گئے ہوئے تھے حالانکہ وہ سب مسلمان نہیں تھے صرف کچھ لوگ مسلمان تھے انہوں نے مبالغہ سے کہا کہ ہم کو سجدے اور رکوع کرتے ہوئے مار دیا ہے۔وہ تو اس امید میں بیٹھے تھے کہ آپس میں دس سال کا معاہدہ ہو چکا ہے اب ہمیں حملہ کا کوئی خطرہ نہیں کوئی کسی کو نہیں چھیڑے گا مگر اچانک قریش اور بنو بکر مل کر ان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے خزاعہ کو مارنا شروع کر دیا جو بھاگ سکے بھاگ گئے اور باقی جو اپنے ڈیروں پر رہے وہ مارے گئے لیکن رات کے وقت کسی کی آواز تو نکل جاتی ہے بعض لوگوں کے منہ سے آوازیں نکلیں تو بنو خزاعہ کو پتہ لگ گیا کہ قریش اُن کے ساتھ شامل ہیں۔چنانچہ انہوں نے صبح شور مچادیا کہ قریش نے بنو بکر سے مل کر ہم پر حملہ کیا ہے۔صرف بنو بکرنے نہیں کیا اور ارد گرد کے لوگوں کو بھی یقین ہو گیا کہ بنو بکر کبھی جرات نہیں کر سکتے تھے جب تک قریش کی مددان کو حاصل نہ ہوتی اس لئے ضرور قریش حملہ میں شامل ہیں۔اس طرح سارے علاقہ میں باتیں شروع ہو گئیں کہ قریش نے معاہدہ توڑ دیا ہے۔چنانچہ مکہ کے رؤساء اکٹھے ہوئے اورانہوں نے کہا یہ تو بڑے فکر کی بات ہے معاہدہ ٹوٹ گیا ہے اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع مل گیا ہے کہ وہ ہم پر حملہ کر دیں اِس کو کسی طرح سنبھالنا چاہئے۔بنو خزاعہ کا وفد رسول کریم صلی اللہ ادھر بنو خزاعہ نے فوراً چالیس آدمیوں کا ایک وفد تیار کیا انہیں علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں اونٹوں پر سوار کیا اور انہیں کہا کہ رات دن منزلیں طے کرتے ہوئے جاؤ اور مدینہ جاکر خبر دو۔چنانچہ وہ تین دن میں مارا مار کر کے مدینہ پہنچے اور جس طرح آپ کو الہاماً بتایا گیا تھا اُسی طرح فریاد کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ ہم رسول اللہ کو اُس کے خدا کی قسم دلاتے ہیں اور اُسی کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے ساتھ اور تمہارے باپ دادوں کے ساتھ ہمیشہ معاہدے کئے اور