انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 252

انوار العلوم جلد 24 252 سیر روحانی (7) خزاعہ کے ساتھ خطرناک واقعہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ مکہ کی سرحد پر ہیں اور مکہ والے جن کا خزاعہ کے ساتھ معاہدہ ہے وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں۔میں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللہ ! کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی قسموں کے بعد قریش معاہدہ توڑ دیں اور وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت کے ماتحت وہ اس معاہدہ کو توڑ رہے ہیں اور وہ حکمت یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حملہ کی اجازت نہیں تھی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! کیا اس کا نتیجہ اچھا نکلے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نتیجہ اچھا ہی نکلے گا۔15 غرض اُس دن پھر نوبت خانہ بجتا ہے۔اور اُدھر وہ واقعہ ہوتا ہے جو میں ابھی بیان کرونگا اور ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اطلاع مل جاتی ہے۔بنو خزاعہ اور بنو بکر کی لڑائی اب واقعہ یوں ہوا کہ خزاعہ اور بنو بکر میں آپس میں لڑائی تھی اور بنو بکر ہمیشہ مکہ والوں کی مدد کرتے تھے۔خزاعہ نے عملی طور پر مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں کی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے اُن کے معاہدے تھے، اُن کی مدد کیا کرتے تھے۔یوں مسلمانوں کو یہ ہمدردی تھی کہ اُن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے تعلقات تھے۔جب یہ معاہدہ ہوا تو یوں تو وہ لڑائی کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے لیکن معاہدہ کے بعد بنو بکر نے سمجھا کہ اب تو یہ غافل رہیں گے اب موقع ہے ان کو مارنے کا۔چنانچہ وہ مکہ کے لوگوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ یہ بڑا اچھا موقع ہے معاہدہ ہو گیا ہے، ان کو تو خیال بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم ان کو ماریں گے اگر اس وقت آپ ہماری مدد کریں تو ہم ان کو تباہ کر سکتے ہیں۔مکہ والوں نے کہا بڑی اچھی بات ہے تم ہمیشہ ہماری مدد کرتے رہے ہو ہم تمہاری مدد کریں گے چنانچہ باہمی مشورہ کے بعد ایک اندھیری رات انہوں نے تجویز کی اور فیصلہ کیا کہ رات کے وقت حملہ کریں گے۔مکہ کے لشکر ہمارے ساتھ آجائیں کسی نے کیا پہچاننا ہے کہ مکہ والے بیچ میں موجود ہیں یہی کہیں گے کہ بنو بکر کے لوگ ہیں اور پھر چوری چوری اُن کو مار کر آجائیں گے اُن کو وہم بھی نہیں ہو گا۔