انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 239

انوار العلوم جلد 24 239 سیر روحانی (7) وہ نبی ان یہودیوں میں سے ہو گا جو مدینہ جاکر رہیں گے اسی وجہ سے وہ ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے آپس میں کہا کہ وہ جو یہودی کہا کرتے تھے کہ نبی ہم میں سے آئے گاوہ تو جھوٹی بات ہے نبی ہم میں سے آنا تھا جو آگیا اس لئے بہتر ہے کہ ہم پہلے اس کو قبول کر لیں۔وہ ڈرے کہ ایسانہ ہو یہودی پہلے اس کو قبول کر لیں۔یہ تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہودی اس کی مخالفت کریں گے۔چنانچہ انہوں نے ایک بڑ او فد بنایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور رات کو آپ سے ملے اور آپ کی باتیں سنیں اور کہا ہم اسلام قبول کرتے ہیں۔رَسُولَ ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر انہوں نے کہا یارسول اللہ! ہم تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لانے کی دعوت ہمارے پاس آجائیں کیونکہ آپ کے شہر کے لوگ آپ سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔حضرت عباس آپ کے ساتھ تھے ، انہوں نے یہ باتیں سنیں تو ان سے ایک عہد لیا۔انہوں نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آجائیں تو تمہارے لئے کچھ شرطیں ہوں گی۔اُن میں سے ایک شرط بھی ہو گی کہ اگر مدینہ پر دشمن حملہ کرے تو تم لوگ اپنی جان اور مال کو قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرو گے۔ہاں اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑائی کرنی پڑے تو پھر مدینہ والوں کی ذمہ واری نہیں ہو گی۔چنانچہ یہ عہد ہو گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد حکم بھی ہو گیا کہ ہجرت کر جاؤ۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ پہنچتے ہی کوئی ایسی رو چلی کہ وہاں عرب کے جو قبائل تھے وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے اور وہاں یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔قبائل عرب کی برافروختگی جب یہ خبر مشہور ہوئی تو عربوں نے یہ دیکھ کر بر کہ اب تو ان کے پاؤں جمنے لگے ہیں اُن قبائل