انوارالعلوم (جلد 24) — Page 237
انوار العلوم جلد 24 237 سیر روحانی (7) او اور اُسے دیکھ کر دشمن کی فوج حواس باختہ ہو جائے گی اور اُسے بھاگنا پڑے گا۔یہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان خدا کا بن جائے۔جب وہ خدا کا بن جاتا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ کسی جگہ پر ہو اور خد اوہاں نہ ہو۔جب بھی دنیا میں لوگ ایسے شخص کے پاس پہنچیں گے اُسے اکیلا نہیں پائیں گے بلکہ خدا کو اُس کے پاس کھڑا پائیں گے اور انسان کا لوگ مقابلہ کر سکتے ہیں خدا کا نہیں کر سکتے۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ آدھی وَ اَمَر۔فرماتا ہے وہ جو گھڑی ہو گی وہ فرعون کی گھڑی سے بھی زیادہ خطر ناک ہو گی۔بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ فرعون کی گھڑی زیادہ سخت تھی اس لئے کہ وہ ڈوب کر مر گیا اور اُس کی فوج تباہ ہو گئی لیکن واقع میں دیکھیں تو کفار کو جو سزاملی وہ فرعون کی سزا سے زیادہ سخت تھی۔فرعون کا لشکر تباہ ہوا لیکن موسیٰ کو مصر کا قبضہ نہیں ملا۔موسیٰ آگے چلے گئے اور کنعان پر جا کر قابض ہوئے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں جو دشمن آیا اُس کو صرف شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس کے ملک پر بھی قبضہ ہو گیا۔یہ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ آدھی وَ آمَرُّ تھا کہ موسی کے دشمن فرعون کو جو سزاملی اُس سے ان کی سزا زیادہ سخت تھی کیونکہ یہ قومی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت آگئے۔مدینہ منورہ میں اسلام کی اشاعت آب جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ خبر ایسے وقت میں دی گئی تھی جبکہ اسلامی حکومت ابھی بنی بھی نہیں تھی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنا پڑا۔پہلے تو یہ ہوا کہ مدینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔کیسی کو کیا خبر ہو سکتی تھی کہ مدینہ کے لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا۔وہ تین چار سو میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جن کے مکہ والوں کے ساتھ کوئی ایسے تعلقات بھی نہیں تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ چونکہ مدینہ والوں کی نواسی تھیں اس لئے صرف اتنا تعلق تھا اس سے زیادہ نہیں تھا لیکن حج کے موقع پر مدینہ سے کچھ لوگ آئے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے