انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvii of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxvii

انوار العلوم جلد 24 xvii (8) اپنے اندر یک جہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے ملک اور قوم کی خدمت کرو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے چودھویں سالانہ اجتماع منعقدہ 17،6،5 نومبر 1954ء بمقام ربوہ کے افتتاح کے موقع پر یہ ایمان پرور خطاب فرمایا۔یہ اجتماع چونکہ ایسے ماحول میں انعقاد پذیر ہوا جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان اپنے ملک میں ایک منفر د خادم خلق تحریک کی حیثیت سے ابھر رہی تھی اور اس نے ملک کے صحافتی ، سماجی اور سرکاری حلقوں میں اپنی خادمانہ سرگرمیوں کے باعث ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا تھا۔اس لئے حضرت مصلح موعود نے بھی اپنی تقاریر میں مجلس خدام الاحمدیہ کے کاموں کو سراہا اور سب سے زیادہ زور خدمت خلق ہی کی اہمیت و ضرورت پر دیا جو اس بین الا قوامی تنظیم کے قیام کی بنیادی غرض وغایت ہے۔چنانچہ حضور نے 5 / نومبر 1954ء کو اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا:۔” اس دفعہ خدام نے طوفان وغیرہ کے موقع پر نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کیا ہے۔اب انہیں اپنے اجلاس میں اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ اس جذبہ کو جو نہایت مبارک جذبہ ہے اور زیادہ کس طرح اُبھارا جائے ؟ کوئی ایسی خدمت جو صرف رسمی طور پر کی جائے حقیقی خدمت نہیں کہلا سکتی۔مثلاً بعض لوگ اپنی رپورٹوں میں لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔اب اگر تو کسی مجلس کے تمام نوجوان یا بارہ پندرہ خدام سارا دن لوگوں کے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہوں یا کسی ایک وقت مثلاً عصر کے بعد روزانہ ایسا کرتے ہوں یا گھنٹہ دو گھنٹہ ہر روز اس کام پر خرچ کرتے ہوں تب تو یہ خدمت کہلا سکتی ہے لیکن اس قسم کی رپورٹ کو میں کبھی نہیں سمجھا کہ اس مہینہ میں ہمارے نوجوانوں نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔یہ وہ خدمت نہیں جس کا خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت تم سے تقاضا کیا جاتا ہے، بلکہ یہ وہ خدمت ہے جس کا بجالانا ہر انسان کے لئے اس کی انسانیت کے لحاظ سے ضروری ہے۔