انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxvi

انوار العلوم جلد 24 www۔Xvi میر قیوم نے کہا " مرزا صاحب کا عدالت میں آنا پاکستان کے تمام علماء کو کھلا چیلنج تھا کہ آؤ مجھ پر جس طرح چاہو سوال کر لو۔ان مولویوں کی زبر دست شکست ہے کہ کچھ بھی اپنے مطلب کی بات پوچھ نہ سکے " ایک نے کہا یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب پاکستان میں واحد عالم ہیں۔بیان میں تناقض قطعا نہیں " کسی نے کہا یہ بیان تو مذ ہبی Terminology کی ڈکشنری ہے۔تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 409) (7) تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کا جواب مختصر سا بیان حضرت مصلح موعود نے مورخہ 28 جنوری 1954 ء کو مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زود نویسی کو املاء کر وایا تھا جس پر حضرت مصلح موعود نے اپنے قلم مبارک سے اصلاح فرمائی اور یہ کمیشن کے درج ذیل تین سوالوں کے جواب پر من مشتمل ہے۔ا۔وہ حالات جن کی وجہ سے مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ii۔صوبہ جاتی گورنمنٹ نے جو ذرائع فسادات کے نہ ہونے دینے کے لئے اختیار کئے ، آیاوہ کافی تھے یا نہیں؟ iii۔صوبہ جاتی حکومت نے (جب یہ فسادات ظاہر ہو گئے ) ان کے دبانے کے لئے جو تجاویز اختیار کیں، آیادہ کافی تھیں یا نہیں؟ حضرت مصلح موعود نے ان تینوں سوالوں کے کافی و شافی جواب دیئے جس میں حکومت پنجاب کے اقدام کو فسادات روکنے کے لئے ناکافی قرار دیا۔جب حکومت ان فسادات کو دبانے میں ناکام ہوئی تو مارشل لاء لگانا پڑا۔حضور نے ان فسادات کے اصل ذمہ دار جماعتِ اسلامی، جماعتِ احرار اور مجلس عمل کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کے کارکنوں نے متواتر لوگوں میں یہ جوش پیدا کیا کہ احمدی اسلام کو تباہ کر رہے ہیں، پاکستان کے غدار ہیں، غیر حکومتوں کے ایجنٹ ہیں۔مندرجہ بالا قیمتی مضمون کی روشنی میں صدرانجمن احمد یہ ربوہ نے اپنا بیان انگریزی میں ترجمہ کرا کر تحقیقاتی عدالت میں داخل کرایا۔