انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 221

انوار العلوم جلد 24 221 متفرق امور تو کل سارے چاہے روپیہ دو، اکھٹی دو، دو روپے دو، پر دے دینا وہاں مسجد کے لئے۔سچ ، محنت تعلیم اور نماز سب سے آخر میں میں یہ کہتا ہوں کہ چند اخلاق ہیں اُن کی طرف توجہ کرو۔سیچ، محنت کی عادت یہ دو اخلاق ہیں اور فعل میں تعلیم اور نماز۔قوموں کا وقار سیچ اور محنت سے بنتا ہے اور تعلیم اور نماز قوموں کو خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے اور بنی نوع انسان کے لئے مفید بنادیتی ہے۔تمام نوجوان نماز با جماعت اور تہجد کی عادت ڈالیں اور تمام عورتوں اور مردوں کو تعلیم دی جائے۔جس طرح میں نے عورتوں میں کہا تھا اسی طرح میں مردوں کو کہتا ہوں کہ وہ بھی انتظام کریں کہ کوئی احمدی اَن پڑھ نہ رہ جائے اردو اُس کو پڑھائی جائے۔دیکھو ساری دنیا کی قوموں میں لوگ اپنی زبان سیکھتے ہیں اور اردو زبان نا سکھاؤ اپنی زبانوں سے سارے علم حاصل کر لیتے ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہر علم اردو میں لے آئیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ ہر آدمی کو اردو سکھا دو بس وہ پھر سارے علم سیکھ جائے گا اور وہی اپنے گھر میں بیٹھا ہوئے افلاطون اور سقراط بن جائے گا۔پس ہر پڑھا لکھا آدمی کم سے کم ایک یا دو آدمی کو سال میں پڑھانے کا وعدہ کرے۔اب یہ سٹیج پر تو سارے پڑھے لکھے بیٹھے ہیں بولو ! سارے وعدہ کرتے ہو جاکر پڑھانے کا؟"۔سٹیج پر بیٹھنے والے سب دوستوں نے حضور کے اس ارشاد پر وعدہ کیا کہ وہ سال میں ایک یا دو آدمیوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں گے اس کے بعد حضور نے فرمایا:- ”اب سٹیج کے باہر والو! جو تمہارے امیر وغیرہ یہاں بیٹھے ہیں وہ وعدہ کرتے ہیں؟ اب باہر کے جلسہ گاہ والو! بولو! کہ جو پڑھنے والے ہو کوشش کرو گے کہ اپنے میں سے اپنے گاؤں اور آس پاس کے کسی ایک احمدی مرد یا عورت کسی کو پڑھانا لکھانا اور اردو سکھا دو گے“؟۔اس پر بھی سب دوستوں نے وعدہ کیا۔آخر میں حضور نے فرمایا:- ”اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اتنی دیر