انوارالعلوم (جلد 24) — Page 218
انوار العلوم جلد 24 218 متفرق امور اور پھر فلاں عزیز کا نام لیا کہ اُس کو بھی یہ پیغام پہنچا دینا۔تو میں یہ خواب پوری کرنے آیا ہوں اور حضرت صاحب کا حکم آپ تک پہنچاتا ہوں۔میں نے ہنس کر کہا میں تو پہلے ہی کانوں کو ہاتھ لگا چکا ہوں۔میں نے بھی نہیں کرنی اور دوسرے آدمی نے بھی نہیں کرنی، پر تو یا در رکھ تُو نے ضرور کرنی ہے۔چنانچہ کچھ دنوں کے بعد میں نے اُس سے پوچھا۔کہنے لگا ہاں تھوڑی سی کیا کرتا ہوں۔میں نے کہا وہی ہو گئی نا بات کہ ہم نے تو حضرت صاحب کا حکم مان لیا تم نے نہیں مانا۔تو بہر حال روکنا مال کا شریعت میں منع ہے۔یہ جو بھی لوگ کرتے ہیں کہ روکتے ہیں مال کہ قیمت بڑھ جائے گی تو بیچیں گے ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔جو آتا جائے بیچتے جاؤ۔پھر نئے بھاؤ پر خرید لو پھر بیچ ڈالو تمہیں بہر حال فائدہ ہے۔تو جتنے نقصان لوگ اٹھاتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی خلاف ورزی سے اٹھاتے ہیں۔تم اس بات کو مد نظر رکھو۔بیع سلم کا طریقہ اختیار کرو کہ پیشگی دو زمینداروں کو اور اُن سے فصل کا بھاؤ اچھا مقرر کرو اور اُس کی وصولی زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرو۔سارے خوجے جو ہیں کروڑوں کروڑ کی تجارت کرتے ہیں کبھی اُن کو نقصان نہیں ہو تا۔وہ ایسا قبضہ رکھتے ہیں ان لوگوں کے ہاتھ پر کہ ان سے کوئی دھوکا نہیں کرتا۔دوسرے ناواقف ہوتے ہیں اُن سے لوگ دھو کا کرتے ہیں۔ہوشیاری کے ساتھ اگر کام کیا جائے۔دیانتداروں سے مل کر کیا جائے تو لاکھوں لاکھ رستہ کھلا ہے تجارت کا جس میں ترقی کی جاسکتی ہے۔زندگی وقف کرنے کی عظمت اور اہمیت پھر اس کام کے بڑھانے کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو وقف زندگی کی تحریک میں کرتا ہوں۔وقف کے راستہ میں اس وقت بہت سی مشکلات ہیں۔بعض ملک بالکل غافل ہیں۔دوسرے جو وقف میں آرہے ہیں اُن کا استقلال اور عزم اس وقت کمزور پڑ رہا ہے۔تیسرے کچھ لوگ غداری دکھا رہے ہیں۔بھاگ کر یا مال چر اکر۔یہ امور خطر ناک ہیں یہ تبھی دور ہو سکتے ہیں جبکہ :- اول مخلص واقفین وقف کی عظمت کا پھر تکرار سے اظہار کریں اور اپنے عمل سے اس