انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxv
انوار لعلوم جلد 24 XV (6) تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان جماعت احمدیہ کے خلاف 1953 ء کے فسادات کی چھان بین کے لئے حکومت پاکستان نے ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی جو چیف جسٹس ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد منیر اور مسٹر جسٹس کیانی مشتمل تھی۔اس عدالت نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کو بھی بطور گواہ بلایا اور 15،14،13 جنوری 1954 ء کو لاہور ہائی کورٹ میں آپ کی شہادت قلمبند کی۔یہ پر معارف تاریخی بیان جو تین دن جاری رہا عدالت عالیہ نے انگریزی زبان میں املاء کر ایا۔جس کا اردو ترجمہ اولا سندھ ساگر اکادمی کراچی نمبر 3 نے سعید آرٹ پر لیس حیدر آباد (سندھ) سے چھپوا کر شائع کیا اور پھر اس بیان کا اردو ترجمہ صیغہ نشر و اشاعت ربوہ نے انہی دنوں ٹریکٹ کی شکل میں شائع کر دیا تا جماعت احمدیہ کے متعلق مسلمان بھائیوں کے دلوں سے غلط فہمی دور ہو ، ملکی فضا میں بہتری کی صورت پیدا ہو اور پاکستان کے سب شہری امن و عافیت اور صلح و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کر کے ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔اس بیان کے دوران پہلے ہر دو فاضل جوں نے حضرت مصلح موعود سے مختلف سوال چھے ازاں بعد چودھری نذیر احمد ایڈووکیٹ نمائندہ جماعت اسلامی اور نمائندہ مجلس عمل مولوی مرتضیٰ احمد خاں نے آپ پر جرح کی۔حضور کا یہ معرکۃ الآراء بیان مع سوال و جواب انوار العلوم جلد 24 کا حصہ ہے۔دوسرے روز حضور کی طرف سے دو ضروری تحریری وضاحتیں بھی داخل عدالت کی گئیں۔عدالت اور فریق مخالف کے ہر دوو کیلوں نے بڑے مشکل سوالات بھی کئے مگر حضرت مصلح موعود نے بغیر کسی پریشانی کے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ایسے برجستہ جواب دیئے کہ اپنے تو اپنے غیر بھی حیران رہ گئے اور داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔حضور کے اس بصیرت افروز بیان کا پبلک میں جب چرچہ ہوا تو بہت سے غیر از جماعت معززین نے بھی اس پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔