انوارالعلوم (جلد 24) — Page 211
انوار العلوم جلد 24 211 تیرے اوپر بھی تین چار سو خرچ ہوتا ہو گا، کوئی ڈیڑھ دو سو اپنی بہن کو بھی بھیجتا ہو گا یہ جو تم دو ہزار روپیہ مہینہ کمارہے ہو یہ کس طرح کمارہے ہو ؟ کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ وہاں کے زمیندارے اور یہاں کے زمیندارے میں فرق ہے۔کہنے لگا وہاں کا زمیندار چھوٹے سے چھوٹا دنیا کی ہر چیز کر رہا ہوتا ہے۔کہنے لگا چودہ کا کھیت ہے اس میں چھ مزارع بیٹھے ہیں ہر مزارع اس طرح کاشت کرتا ہے کہ اُس میں چارہ کافی پید اہو جائے جس میں دو تین بھینسیں وہ رکھے۔اُن کا دودھ بیچتا ہے۔ہر مزارع نے اپنے ٹکڑے میں درخت لگائے ہوئے ہیں اُن کے اندر اُس نے شہد کی مکھیاں رکھی ہوئی ہیں اُن سے وہ شہد بیچتا ہے۔ہر مزارع نے باڑ کے ارد گرد پھول لگائے ہیں وہ مختلف وقتوں میں پھول ہوتے ہیں اُن کے پھول بیچتا ہے۔ہر مزارع کے درخت پھل دار ہیں وہ اُن سے آپ بھی کھاتا ہے اور اپنے پھل بیچتا ہے۔پھر اُن کے ہاں سور زیادہ پالتے ہیں ہر مزارع نے سور اور مرغیاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں وہ اُن سے سور اور مرغیاں بیچتا ہے۔غرض اتنے لمبے اُس نے کام گنے اور کہا کہ وہ تین چار ایکڑ اس طرح استعمال کرتا ہے اور رات دن اس طرح اُن میں محنت کرتا ہے کہ اُس میں وہ سینکڑوں روپے کماتا ہے ایک ایکڑ میں۔تو آخر ہماری زمینیں اُن سے ادنیٰ نہیں ہیں ہماری مشکل یہی ہے کہ ہمار از میندار یہ کہتا ہے پیٹ کو روٹی مل جائے تو بس پھر اور کوئی بات نہیں ہے۔آگے بیٹے پڑھیں نہ پڑھیں، دین کی مدد ہو یا نہ ہو۔اگر چندہ ہم مانگتے ہیں تو اپنی زمین پر محنت کر کے وہ چندہ نہیں دیتا اپنی قربانی کرتا ہے کہ اچھا دس روپے میں کماتا ہوں چلو وصیت کر دی روپیہ اُس میں سے دے دونگا۔اپنے آپ کو فاقہ مار کے چندہ دیتا ہے محنت کر کے گیارہ روپے کی آمد نہیں پیدا کر تا کہ ایک روپیہ ہم کو دیدے بلکہ اُسی دس روپے میں سے ایک روپیہ ہم کو دیتا ہے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جب ہم اُس سے چندہ مانگنے جائیں تو وہ کہے اب میں زیادہ محنت کروں گا مجھ سے چندہ مانگ رہے ہیں اب میں دس کی آمد نہیں پیدا کروں گا اب میں بارہ روپے مہینہ کروں گا۔ان کو ایک روپیہ دو آنے دو نگا تو میری آمد دس روپے چودہ آنے ہو جائے گی۔ہم روز چندہ مانگیں تو کہے اچھا اب میں اور محنت کر کے پندرہ روپے