انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxiv
انوار العلوم جلد 24 xiv خدا کہہ رہا ہے۔میری آواز نہیں ہے میں خدا کی آواز تم کو پہنچارہا ہوں، تم میری مانو! خدا تمہارے ساتھ ہو ، خدا تمہارے ساتھ ہو ، خدا تمہارے ساتھ ہو۔اور تم دنیا میں بھی عزت پاؤ اور آخرت میں بھی عزت پاؤ۔“ (انوار العلوم جلد 24 صفحہ 338 ،339) یہ پر معارف تقریر قریباً 5 گھنٹے تک جاری رہی جسے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کرنے کا شرف حضرت ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب آف بورنیو کو حاصل ہوا۔اس کی اثر انگیزی اور انقلاب آفرینی کا یہ عالم ہے کہ بار بار سننے کے باوجود اس کی روحانی تاثیرات و برکات میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ اب بھی حضرت مصلح موعود کی پر شوکت آواز کانوں میں پڑتے ہی ایک خاص وجدانی کیفیت قلوب و اذہان پر طاری ہو جاتی ہے۔(5) مولانا شوکت علی کی یاد میں مولانا شوکت علی مرحوم اور آپ کے دو بھائیوں نے اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی، دینی اور اخلاقی خدمات میں بہت نام پیدا کیا ہے۔سب سے بڑے بھائی حضرت مولانا ذوالفقار علی خان صاحب گوہر کو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں شمولیت کی توفیق بخشی۔چھوٹے بھائی مولانا محمد علی صاحب جو ہر تھے اور مولانا شوکت علی صاحب منجھلے تھے۔ان کی ملکی اور اسلامی خدمات کو سراہنے کے لئے حضرت مصلح موعود نے جنوری 1954ء میں ایک مضمون بعنوان " مولانا شوکت علی کی یاد میں " ماہنامہ ریاض کراچی کے لئے تحریر فرمایا جس کے مدیر سید رئیس احمد جعفری تھے۔یہ مضمون شوکت علی نمبر شمارہ جنوری 1954ء میں صفحہ 23 تا 25 میں پہلی بار منظر عام پر آیا۔حضور نے ان کی خدمات کا ذکر کرنے کے بعد اس مضمون کی تحریر کا مقصد مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلانا قرار دیا کہ وہ ان کے طریق عمل سے سبق حاصل کریں اور وہ سچی اور بے لوث خدمت پاکستان ، عالم اسلام اور مسلمانوں کی کر سکیں۔