انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 202

انوار العلوم جلد 24 202 تم بے شک کہہ لو کیا حرج ہے۔میں تو اس کی حکمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اگر اس وقت پتہ ا لگ جاتا تو تم نے اتنی دُور نہیں چلنا تھا۔یہ تو خدا نے جیسا جانور کو گھاس دکھا دکھا کر آگے لے جاتے ہیں اسی طرح کیا ہے کہ گھاس دکھایا تھوڑا سا چلایا۔پھر گھاس دکھایا پھر آگے چلایا۔پھر گھاس دکھایا پھر آگے چلایا لیکن ایک وقت آگیا کہ اس نے کہا چھوڑو اس مخول کو سیدھی طرح ظاہر کرو کہ تمہیں قیامت تک یہ کام کرنا پڑے گا۔دیکھو اسلام باوجود اپنے سارے دلائل کے اس وقت دنیا کی آبادی کا زیادہ سے زیادہ 1/4 حصہ ہے اور عیسائیت اپنی ساری نامعقولیوں کے تعداد کے لحاظ سے دنیا کے حصہ سے زیادہ ہے اور طاقت کے لحاظ سے تو ساری طاقت اس کے پاس ہے۔نوے فیصدی طاقت اس کے پاس ہے دس فیصدی لوگوں کے پاس ہے۔یہ نتیجہ ہے ان کے تبلیغ کرنے کا انہوں نے باطل کی تائید کی اور اس کو غالب کر دیا۔مسلمانوں نے سچ کی تائید نہ کی اور سچ مغلوب ہو گیا۔خدا نے یہ قانون بنایا ہے کہ جو شخص کسی مقصد کے حصول کے لئے کوشش ے گاوہ جیتے گا جو نہیں کرے گا وہ مغلوب ہو جائے گا۔اور جو عیسائیت کالوگوں کے دماغ پر اثر ہے اس کو اگر دیکھیں تو وہ سو فیصدی ہے۔یعنی اب جو مسلمان کہلانے والے ہیں اگر تم ان سے باتیں کرو تو ان کے خیالات، ان کا فلسفہ ، ان کی آراء، ان کے فیصلے سارے عیسائیت کے ماتحت ہیں۔اسلام والی کونسی بات ہے۔صرف یہ کہہ دیں گے اسلام زندہ باد “ اور اس کے بعد ساری عیسائیت کی باتیں شروع کریں گے۔اسلام زندہ باد، اسلام میں ڈیمو کریسی ہے حالانکہ ڈیمو کریسی تو ہے ہی امریکہ اور انگلستان کا لفظ۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ٹنا بھی نہیں تھا۔ڈیمو کریسی کہاں سے آگئی۔تم یہ کہو کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کو اصل شکل میں پیش کرو پھر آپ دنیا فیصلہ کرے گی کہ یہ تعلیم ڈیمو کریسی سے کتنی ملتی ہے اور کتنی نہیں ملتی۔یا کہہ دیں گے اسلام میں روٹی کپڑے کا انتظام مسلمانوں نے کیا تھا۔جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اسلام میں کمیونزم ہے۔غرض وہ نام جس کو سو سال پہلے بھی ہمارا باپ نہیں جانتا تھا وہ