انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxiii

xiii انوار لعلوم جلد 24 بات ہوئی کہ ٹوں ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں ٹیں مگر افسوس کہ اس نوبت خانہ کو آخر مسلمانوں نے خاموش کر دیا، یہ نوبت خانہ حکومت کی آواز کی جگہ چند مرثیہ خوانوں کی آواز بن کر رہ گیا اور اس نوبت کے بجنے پر جو سپاہی جمع ہوا کرتے تھے وہ کروڑوں سے دسیوں پر آگئے اور ان میں سے بھی نانوے فیصدی صرف رسماً اُٹھک بیٹھک کر کے چلے جاتے ہیں۔تب اس نوبت خانہ کی آواز کا رُعب جاتارہا، اسلام کا سایہ کھینچنے لگ گیا، خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی اور دنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو ! ہاں تم کو ! ہاں تم کو! خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے۔اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو!اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو!اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو ! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو، ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اٹھیں تاکہ تمہاری دردناک آواز میں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کے لئے میں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیح سے چھین کر پھر وہ تخت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے۔پس میری سنو اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ