انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxii

xii انوار العلوم جلد 24 1958ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا جس میں حضور نے عالم روحانی کے نوبت خانہ کا نقشہ کھینچا تھا۔حضور نے 1938ء میں ایک رؤیا کی بنیاد پر قادیان سے حیدر آباد دکن کا سفر اختیار فرمایا۔جس کی غرض سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور علم و فن کے سب سے بڑے مر کز ریاست حیدر آباد کے حالات و واقعات کا جائزہ لینا تھا۔اس سفر میں حضور نے مختلف تاریخی مقامات اور نظارے مشاہدہ فرمائے جن کی تعداد 16 تھی۔حضور نے ان 16 مادی اشیاء کے مقابل عالم روحانی میں ان کے مشابہ اور مماثل امور کو نہایت وجد آفرین و اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمایا۔1938ء،1940ء، 1941ء،1948ء،1950ء،اور 1951ء کے وہ بعد یہ اس سلسلہ کی ساتویں تقریر ہے۔یہ سلسلہ تقاریر پیشگوئی مصلح موعود کے الفاظ " و علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا " کی عظیم الشان صداقت کا بین ثبوت ہے۔ان پر کیف تقاریر کو پڑھ کر روح وجد میں آجاتی ہے۔اس تقریر میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود سے قائم ہونے والی آسمانی بادشاہت پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور قرآنی علوم کے گویا دریا بہا دیئے اور سیرت نبوی ، تاریخ سلف ، آئمہ سلف اور حضرت مسیح موعود کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔اگر چہ پوری تقریر مسحور کن تھی مگر اس کے آخری مبارک کلمات تو صور اسرافیل کا سارنگ رکھتے تھے جنہوں نے پژمردہ روحوں کو حیات نو بخشی اور جماعت کے ہر طبقہ کو علم و عرفان کا وو تازہ ولولہ عطا کیا اور ان کے جوش عمل میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔حضور نے فرمایا : اس نوبت خانہ سے جو یہ نوبت بجی یہ کیا شاندار نوبت ہے پھر کیسی معقول نوبت ہے وہاں ایک طرف بینڈ بج رہے ہیں ٹوں ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں ٹیں اور یہ کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ - اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ - حَيَّ عَلَى الصَّلُوةِ - حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کیا معقول باتیں ہیں، کیسی سمجھدار آدمیوں کی باتیں ہیں ، بچہ بھی سنے تو وجد کرنے لگ جائے اور ان کے متعلق کوئی بڑا آدمی سوچے تو شرمانے لگ جائے ، بھلا یہ کیا