انوارالعلوم (جلد 24) — Page 177
انوار العلوم جلد 24 177 متفرق امور نے مل کر بھی اتنی باتیں نہیں سنیں جتنی اکیلے میں نے سنی ہیں۔تو ایک تو یہ رنگ اور شوق ہوتا ہے۔مگر یہ رنگ اور شوق لوگوں میں کم ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صحیح مطالعہ کرے اور مطالعہ کر کے اپنے علوم کو بڑھائے یہ آجکل زیادہ آسان ہے کیونکہ مطبع نکل آئے ہیں۔اخبار میں نکل آئی ہیں ، رسالے نکل آئے ہیں، علوم کثرت کے ساتھ باہر آتے ہیں اُن کے مطالعہ سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔آگے مطالعہ کے لئے دو قسم کا لٹریچر ہوتا ہے ایک مؤقت الشیوع او را یک انفرادی حیثیت میں شائع ہونے والا۔مؤقت الشیوع رسالے جو ہمارے ہیں اُن میں ”الفضل ہے، ریویو آف ریلیجنز ہے، فرقان ہے، مصباح ہے، خالد ہے۔یہ وہ مؤقت الشیوع رسالے ہیں جن سے جماعت کے لوگوں تک سلسلہ کی آواز پہنچتی رہتی ہے لیکن باوجو د میرے بار بار توجہ دلانے کے ابھی اِن اخباروں اور رسالوں کی وہ خریداری نہیں ہے اور اتنی اشاعت نہیں جتنی ہونی چاہئے۔مثلاً جلسہ پر تیس ہزار کے قریب آدمی آجاتا ہے بعض دفعہ پینتیس یا چالیس ہزار تک بھی آگیا ہے۔بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا ہے لیکن المصلح کی خریداری بائیس سو کے قریب ہے۔اب یہ خریداری اُس تعداد سے جو جلسہ پر آجاتے ہیں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی اور پھر جو ہزاروں ہزار آدمی باہر بیٹھا ہے ، لاکھوں آدمی باہر بیٹھا ہوا ہے وہ تو اور زیادہ ہے۔جو لوگ غیر ملکی ہیں اُن کی زبان اور ہے اُن کو جانے دو۔جو ہمارے ملکی ہیں وہ بھی لاکھوں آدمی باہر رہ جاتا ہے تو یہ اُس نسبت سے کم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ المصلح مثلا روزانہ اخبار ہے اسکی قیمت زیادہ ہے۔یہ ٹھیک ہے لیکن اگر پانچ پانچ چھ چھ مل کر خرید لیں تو آپ ہی قیمت تھوڑی ہو جاتی ہے۔فرض کرو چو بیس روپیہ قیمت رکھی ہے چھ آدمی مل گئے تو چار چار روپے ہو گیا۔چار روپے تو آجکل ہفتہ واری اخبار کے نہیں ہوتے۔پہلے بدر وغیرہ چھپتے تھے ہفتہ واری تھے اُن کی اس چار سے زیادہ قیمت ہوتی تھی تو جماعتیں مل کے لے لیں۔چھوٹی جماعتیں آپس میں مل کے چندہ کریں اور مل کے خرید لیا کریں۔مگر باوجود بار بار توجہ دلانے کے جماعت