انوارالعلوم (جلد 24) — Page 176
انوار العلوم جلد 24 176 متفرق امور اوپر لے لو کہ جہاں لاری اور ریل میں کوئی شخص بولے فوراً اُسے پکڑو اور اس طرح اُس سے سوال کرو کہ تو بتا تو غلام محمد گورنر جنرل کو جانتا ہے ؟ تو محمد علی وزیر اعظم کو جانتا ہے؟ تو محمد علی فائنانس منسٹر کو جانتا ہے ؟ تو گورمانی وزیر داخلہ کو جانتا ہے ؟ تو اشتیاق قریشی کو جانتا ہے ؟ تو فیروز خان کو جانتا ہے ؟ تو مظفر خان کو جانتا ہے ؟ تو امین الدین صاحب گورنر کو جانتا ہے؟ یہ کیوں کہتا ہے کہ سارے کے سارے بے ایمان ہیں ؟ کتنوں سے تیرا واسطہ پڑا ہے؟ کسی ایک یا دو یا چار سے تیر اواسطہ پڑا ہے تو سارے ملک کے افسروں کو بدنام کرتا ہے ؟ دیکھو اتنے میں ہی یکدم پانچ سات نوجوان تمہاری تائید میں کھڑے ہو جائیں گے کہیں گے یہ بالکل ٹھیک بات ہے اور آہستہ آہستہ یہ رو بدل جائے گی اور کسی کو جرات نہیں ہو گی کہ ریلوں اور سڑکوں اور لاریوں میں گورنمنٹ کے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈا کرے۔اور جس وقت یہ رو بدلے گی ملک میں امن بھی پیدا ہونا شروع ہو جائے گا اور حکومت کے ساتھ تعاون کی روح بھی پید اہوتی چلی جائے گی۔جماعت کے اخبار اور رسائل پانچویں بات میں احمد یہ لٹریچر کے متعلق کی اشاعت بڑھانے کی تحریک کہنا چاہتا ہوں۔انسانی علم یا فیض صحبت سے بڑھتا ہے یا مطالعہ سے بڑھتا ہے۔فیض صحبت کا زمانہ تو اب بہت ہی کم ہو گیا ہے۔پرانے زمانہ میں تو دروازوں کے آگے بیٹھ جاتے تھے اور وہ ہلتے نہیں تھے۔کہتے تھے چاہے ایک بات کان میں پڑ جائے چاہے دو پڑ جائیں علم بہر حال قیمتی چیز ہے ہم بیٹھے رہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قریباً تین سال پہلے حضرت ابوہریرہؓ ایمان لائے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بڑی دیر میں ایمان لایا ہوں۔میں بیس سال پہلے مجھ سے ایمان لائے ہوئے آدمی روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے تھے تو مجھے یہ موقع نہیں ملا اب میں جلدی جلدی کچھ حاصل کروں۔وہ کہتے ہیں میں نے قسم کھالی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کو نہیں چھوڑونگا۔چنانچہ میں رات اور دن بیٹھا رہتا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے تھے میں فوراً آپ کی بات سن لیتا تھا اس وجہ سے باقی سب صحابہ ย