انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 175

175 انوار العلوم جلد 24 اس لئے میں پوچھتا ہوں کہ آپ وہ ترکیب بتائیے کہ کشمیر میں فتح کرلوں اور ایک آدمی بھی نہ مرے۔میں نے کہا پھر یہ گورنمنٹ سے ہی پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔تو جب میں نے یہ مثال سنائی اُس کرنیل کا چہرہ روشن ہو گیا کہنے لگا میری تسلی ہو گئی، میں سمجھ گیا۔میں نے کہا اچھا۔اب میں حیران کہ قرآن کی آیت سے تسلی نہیں ہوئی۔تو اس بات سے تسلی ہو گئی ہے۔میں نے کہا آپ کی تسلی کس طرح ہو گئی ہے ؟ کہنے لگا وہ کر نیل جس نے حملہ کیا تھا وہ میں ہی تھا اور اسی کا بُرا اثر میری طبیعت پر ہے۔تو کہنے لگا میں ہی تھا وہ حملہ کرنے والا۔اور جب افسر کو پوچھا گیا تو مجھے بہت زجر ہوئی اور میرا حوصلہ بالکل ہی مر گیا۔میں نے کہا یہ چند دن کی بات ہے جب تک پاکستان نہیں لڑنا چاہتا وہ تم کو روکے گا۔لازماً اُس نے روکنا ہے وہ روکے گا تو سپاہیوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے کہ لڑنے تو کوئی دیتا نہیں آہستہ آہستہ مایوسی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔تو تیار رہنے اور ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ تیار رہنے اور وقت پر جاکر ارادہ کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔تم کو اپنے نفسوں میں یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہماری اور عالم اسلام کی حالت اس وقت ایسی ہے جیسے بہتیں دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔اگر اس وقت فلسطین پر کوئی مصیبت آجائے یا عراق پر آجائے یا ایران پر آجائے تو اب حالت ایسی ہے کہ یا مسلمان اکٹھے مریں گے یا اکٹھے بچیں گے۔یہ وہ وقت نہیں کہ فلسطین اور ایران اور مصر کو الگ الگ دیکھا جائے یا پاکستان ہے اس کو الگ دیکھا جائے۔اگر کوئی ملک بیوقوفی کرتا ہے تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔فرض کرو وہ کہہ دیتا ہے مجھے تمہاری ضرورت نہیں تو اس کو سکنے دو جو بکتا ہے تجھے ضرورت ہے ہماری اور ہمیں تیری ضرورت ہے بہر حال ہم نے اتحاد سے ہی کام کرنا ہے۔اس ارادہ کے ساتھ جب دیکھو گے علاوہ نیک مشورہ او ردعاؤں کے تو پھر تمہارے اندر وہ صحیح عزم پیدا ہو جائے گا کہ موقع کے اوپر فوراً قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔اسی طرح یہ جو لوگ افسروں کے خلاف باتیں کرتے ہیں تم یہ ذمہ داری اپنے