انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 170

انوار العلوم جلد 24 170 متفرق امور ہو جائے گی۔پھر کہے گی چلو جو ان سے ملتا ہے وہ تو لے لو۔تو وہ جو ترکیب اختیار کر رہے ہیں وہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے۔جو ہم طریق اختیار کر رہے ہیں وہ کامیابی سے بہت بعید ہے۔ہم دوسرے کے ان اخلاق پر بھروسہ کر رہے ہیں جو اس کو حاصل نہیں۔وہ اُن امیدوں اور اُن آرزؤوں پر بھروسہ کر رہا ہے جو اُس کو حاصل ہیں تو لازمی بات یہ ہے کہ جو چیز حاصل ہے وہ مل جائے گی اور جو نہیں حاصل وہ نہیں ملے گی۔وہ تو جانے دو کشمیری تو بیچارہ ظلم میں ہے اس کی تو بات سب جانتے ہیں۔میں بتاتا ہوں کہ اس ملک پر بھی اس کا بُرا اثر پڑ رہا ہے۔میں کوئی تین سال کی بات ہے کوئٹہ گیا۔مجھے کوئی تین چار فوجی افسر ملنے آئے۔وہ سارے کر نیل تھے خیر رسمی باتیں انہوں نے کیں کچھ اِدھر اُدھر کی کچھ کشمیر کی بھی ہوئیں۔میں نے کہاہاں کشمیر ضرور ملنا چاہئے مسلمانوں کو۔اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔چلے گئے۔دوسرے دن پرائیویٹ سیکر ٹری نے مجھے لکھا کہ فلاں کر نیل صاحب آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے الگ بات کرنی ہے۔میں نے اُن کو لکھا کہ کوئی غلطی تو نہیں آپ کو لگی۔یہ کل مجھے مل کے گئے ہیں۔مجھے تین چار آدمی ملے تھے اُن میں یہ بھی شامل تھے انہوں نے کہا یہ ہیں تو وہی لیکن وہ کہتے ہیں میں اُن کے سامنے ایک بات نہیں کر سکا میں نے پرائیویٹ بات کرنی ہے۔میں نے کہا لے آؤ چنانچہ وہ آگئے۔وہ ایک پاکستانی فوج کے اچھے ممتاز عہدیدار ہیں۔بیٹھ گئے۔میں نے کہا فرمائیے آپ نے کوئی الگ بات کرنی تھی۔کہنے لگے ہاں کل آپ کے لحاظ سے میں نے بات کی نہیں جب آپ نے کشمیر کے متعلق ہمیں توجہ دلائی لیکن میں چاہتا تھا کہ آپ سے الگ ہو کر بات کروں۔میں نے کہا فرمائیے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کشمیر ہم کو لینا چاہئے اور کشمیر کے لئے ہم کو قربانی کرنی چاہیئے اس کے لئے ہمیں ہمت کرنی چاہئے یہ آپ نے کس بناء پر کہا ہے ؟ کیا آپ یہ بات نہیں سمجھتے کہ فوج ہندوستان کے پاس زیادہ ہے ؟ میں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی فوج زیادہ ہے۔کہنے لگے تو کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ جو بندوقیں ہمارے پاس ہیں وہی بندوقیں اُن کے پاس ہیں۔انگریز والی بندوق ہے وہی رائفل ہمارے پاس ہے۔