انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 165

انوار العلوم جلد 24 165 ٹھیک۔میں نے کہا تو پھر ایسی خطرناک حالت میں تو یہ بات تو نہیں کرنی چاہئے کہ فلاں میرا مخالف ہے فلاں مخالف ہے۔میں نے کہا آپ یہ تو بتائیے کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ لیگ مخالفت کرتی ہے یا دوسرے لوگ مخالفت کرتے ہیں آپ یہ بتائیں کہ اگر خدانخواستہ ہندوستانی فوج پاکستان میں داخل ہو جائے تو وہ لیگ کے آدمیوں کو مارے گی یا عوام الناس کو مارے گی؟ یا مارے گی کہ نہیں ؟ تو اس پر بے ساختہ ہو کر وہ کہنے لگے کہ اب کے وہ داخل ہوئی تو ایسا مارے گی کہ مشرقی پنجاب بھول جائے گا۔میں نے کہا کس کو مارے گی؟ کہنے لگے یہ تو صاف بات ہے کہ عوام الناس کو مارے گی۔بڑے آدمی تو بھاگ جائیں گے اِدھر اُدھر ، روپے والے لوگ ہیں کوئی ہوائی جہاز میں بھاگے گا کوئی کسی طرح بھاگ جائے گا۔عوام الناس مارے جائیں گے۔میں نے کہا اب آپ یہ بتائیے کہ پندرہ سال تک آپ کو مسلمان ہار پہناتے رہے ہیں، آپ کو بادشاہ کہتے رہے ہیں، آپ کو اپنا سر دار کہتے رہے ہیں وہ عوام الناس تھے یا یہ بڑے بڑے لوگ تھے جو آپ کے مخالف ہیں؟ کہنے لگے نہیں عوام الناس تھے۔میں نے کہا تو پھر پندرہ سال انہوں نے آپ کو ہار پہنائے آج آپ اُن کے قصور کی وجہ سے نہیں لیگ کے کچھ لیڈروں کی وجہ سے کہتے ہیں ان کو مرنے دو اور اُن کی عورتوں کو مرنے دو اور اُن کے بچوں کو مرنے دو یہ انصاف ہے؟ کہنے لگے انصاف تو نہیں ہے مگر انہوں نے مجھے بڑا دق کیا ہے اس لئے میں نہیں کر سکتا۔میں نے کہا ایک اور نقطہ نگاہ سے میں آپ کو سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں ایسی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں جو کہ چالیس سال سے پتھر کھارہی ہے میں نے آپ کئی دفعہ پتھر کھائے، آپ ہی کے وطن میں پٹھانوں نے ہمارے آدمیوں کو شہید کیا۔میں نے کہا مجھے تو پتھر پڑے اور آپ کو پھول پڑے۔میں اِس نازک وقت میں اُن پتھروں کو بھی بھولنے کے لئے تیار ہوں اور آپ اس نازک وقت میں اپنے پھول بھی یاد کرنے کے لئے تیار نہیں !! بتائیے یہ انصاف ہے؟ پھر دومنٹ خاموش رہا اور اس کے بعد کہنے لگا میں اپنے دل میں اس وقت کوئی کام کرنے کی ہمت نہیں پاتا۔میں نے کہا پھر آپ کا اور میرا اتنا اختلاف ہے کہ اب میں سمجھتا ہوں کہ ہم آگے بڑھ نہیں سکتے اور میں اٹھ کر چلا آیا۔