انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 156

انوار العلوم جلد 24 156 اس طرح اقتصادی مشکلات کے دور ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کی مصنوعات کو زیادہ استعمال کیا جائے لیکن جو ہندوستان سے ہمارے احمدی آتے ہیں میں ان سے ہمیشہ یہ بحث کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں دتی میں، آگرہ میں الہ آباد میں، کلکتہ میں، بمبئی میں ہر جگہ پر ہم گئے ہیں اور جب وہ چیز جو ہم کو عادت تھی انگلستان اور امریکہ کی خرید نے کی۔ہم بازار میں گئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے وہ نہیں مل سکتی۔ہندوستان کی ہے۔اور انہوں نے کہا یہاں آکے پوچھو تو پاکستان کی بھی نہیں ملتی۔اور انگلستان کی بھی نہیں ملتی اور میں نے یہاں تاجروں سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں اگر اُس کو کہہ دیں کہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے تو پھر وہ ناک چڑھا کر چلا جاتا ہے کہ یہ تو نہیں لینی اور پھر کہتے ہیں ملک ترقی کر جائے۔جب تک ملی مصنوعات کو فروغ نہ دیا جائے گا۔جب تک ملکی مصنوعات کو نقصان اٹھا کر بھی استعمال نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک نہ ہمارے کارخانے مضبوط ہوں گے نہ ہماری تجارتیں مضبوط ہوں گی، نہ ہماری صنعتیں مضبوط ہوں گی اور نہ ہماری اقتصادی حالت درست ہو گی۔سال میں دوارب چار ارب ہم نے غیر ملکوں سے سودا منگوایا تو ہم اُن کے مقروض رہیں گے اُن کے برابر کس طرح جائیں گے۔جو ہماری دولت ہے ، ہماری کپاس ہے ، ہماری جیوٹ ہے وہ تو ساری قرضوں کے ادا کرنے پر لگ جاتی ہے اُن عیاشیوں کے بدلہ میں جو باہر سے آتی ہیں لیکن جتنے آزاد ممالک ہیں اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ یا تو اپنی مصنوعات استعمال کریں گے یا نیم مصنوعات استعمال کریں گے۔یہ ایک اقتصادی اصطلاح ہے یعنی بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ملک پوری نہیں بنا سکتا تو اس کے لئے انہوں نے نیم مصنوعات کا طریقہ رکھا ہے کہ پھر ہم اُس کو ترجیح دیں گے جس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہمارے پاس بنا ہوا ہو گا۔مثلاً ایک ٹنکچر ہے۔ٹنکچر بنتا ہے کچھ دوائی کو ایک خاص مقدار میں سپرٹ میں ڈال کے کچھ دن رکھنے سے۔ہلانے سے جب وہ اُس کے اندر اتنارچ جاتا ہے جتنا کہ وہ سپرٹ برداشت کر سکتا ہے تو وہ ٹنکچر کہلاتا ہے۔تو اب بنایا ہوا ٹنکچر وہاں سے آئے گا تو وہ بھی ایک مصنوعہ ہے اور یہاں ہم دوائی منگالیں اور سپرٹ اپنے ملک کا لے کر بنا لیں تو یہ اپنے ملک کی نیم مصنوعات