انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 154

انوار العلوم جلد 24 154 ایثار اور وسعت حوصلہ دوسرے ملکوں سے کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اب بھی پیچھے چودھری صاحب کے خلاف جب بعض لوگوں نے باتیں کیں تو انڈونیشیا کی حکومت نے یہ پروٹیسٹ کیا پاکستان کے پاس کہ ہم اس کو نہایت ناپسند کرتے ہیں۔تو ان لوگوں کے اندر مذہبی تعصب بہت کم ہے۔ملانے ہیں اور میں نے شاہ محمد صاحب سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں چند ملانے ایسے ہی کٹر ہیں جیسے یہاں کے ہوتے ہیں لیکن عام نہیں۔عام لوگوں میں وسعت حوصلہ زیادہ ہے ہمارے دوسرے ملکوں کی نسبت۔لیکن آپس میں لڑرہے ہیں۔یہ عجب بات ہے کہ ہماری برداشت کر لیتے ہیں گو ہم غیر ملکی ہیں لیکن آپس میں لڑائی ہو رہی ہے سب کی۔اس کی وجہ سے انڈونیشیا کو طاقت نہیں مل رہی اور خونریزی ہوتی رہتی ہے۔آئے دن خبریں آتی ہیں۔ہمارے آدمی بھی بعض مارے جاتے ہیں۔ہمارے دوست پڑھ کے سمجھتے ہیں کہ شاید احمدیوں کو مارا ہے۔وہ احمدیوں کو نہیں مارا ہو تا آپس میں جو قبائل آکر حملہ کرتے ہیں ایک دوسرے پر تو بیچ میں جو احمدی ہوتے ہیں وہ بھی مارے جاتے ہیں۔پچھلے چھ مہینے سال کے اندر شاید تین واقعات ہوئے ہیں اور شاید پندرہ ہیں احمدی مارے گئے ہیں اور شاید پچاس ساٹھ یا سو گھر لوٹا گیا ہے۔پس جب انہوں نے آکر دو تین گاؤں لوٹے۔بیچ میں جو احمدی تھے وہ بھی پکڑے گئے ، مارے گئے لیکن احمدیت کی دشمنی اصل غرض نہیں۔اصل دشمنی اُن کی یہی ہوتی ہے پارٹی بازی۔ایک پارٹی جو ہے وہ دوسری پارٹی کے خلاف ہے۔تو یہ ایک بڑا بھاری مورچہ ہے جو محض اس اختلاف کی وجہ سے کمزور ہو رہا ہے۔پاکستان کی نازک اقتصادی حالت پھر ہم قریب پہنچتے ہیں پاکستان میں تو یہاں بھی حالات ہم کو نہایت نازک نظر آتے ہیں۔پاکستان کی اقتصادی حالت اول تو نہایت خراب ہے وہ اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے لیکن بڑی مصیبت ہمارے لئے یہ ہے کہ جہاں باقی دنیا میں جب کوئی ایسی مصیبت آتی ہے تو سارا ملک کہتا ہے کہ اس قربانی میں ہم لیں گے وہاں ہمارے ملک کا باوا آدم کچھ ایسا نرالا ہے کہ یہ بڑے آرام سے گھر میں