انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 147

انوار العلوم جلد 24 ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی برکات ہیں۔147 میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم دعا کے لئے اگر خط لکھو نہ بھی پہنچے مجھے تب بھی تمہارے لئے دعا ہو جائے گی کیونکہ دعا تو اللہ تعالیٰ سے میں نے کرنی ہے اللہ کو پتہ ہے کہ فلاں نے خط لکھا ہے۔بیشک لوگ اسے غائب کر دیں۔پچرانے والے پھر ایس تمہارے لئے دعا ہو جائے گی۔اور پھر ہم یوں مجمل دعا ہی کرتے رہتے ہیں کہ الہی جو ہمیں دعا کے لیے لکھ رہا ہے یا لکھتا ہے یا جس نے لکھا ہے اُس کے اوپر تو فضل کر۔تو وہ پھر اس کے اندر آہی جائے گا۔تو اس طرح جو شخص ملتا ہے چاہے اُس کی شکل بھی ہم نہ پہچانیں۔کچھ ہو دعا کا حصہ تو اسے مل جائے گا لیکن یہ کہ پورا حصہ لینا چاہئے اُس کو۔وہ پورا نہیں دیا جاتا اُس کو۔اس لئے ملنے والوں کو ہمیشہ ذرا فاصلے پر کھڑا ہونا چاہئے۔حفاظت کے لئے ایسی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایسا کون آدمی ہے جس نے ہوا میں اڑ کے نقصان پہنچانا ہے ایک گز کا تو فاصلہ ہوتا ہے ایک گز میں انسان تیز قدم میں ایک گز سے آگے نکل جاتا ہے تو ملاقات کرانے والوں کو ذرا فاصلہ پر کھڑا ہونا چاہئے۔ساتھ منہ کے نہیں کھڑا ہونا چاہئے اور ذرا پہلو سے ہٹ کے کھڑا ہونا چاہئے کوئی زیادہ دُور نہیں اگر ایک قدم بھی وہ ایک طرف ہٹ جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تین گز سے وہ آدمی آتا ہوا مجھے نظر آجائے گا اِس لئے اُس کے منہ پر روشنی پڑ رہی ہو گی۔اُس کی شکل میں پہچان لوں گا۔اگر وہ پر انا واقف ہے تو میں اُس کو جان لوں گا لیکن یوں آتے ہی جس وقت میں اس کو بعض دفعہ پہچاننے لگتا ہوں تو اتنے میں وہ اُس کو گھسیٹتے ہوئے پر لے سرے پر پہنچادیتا ہے تو میرے ذہن میں جو بات ہوتی ہے وہ بیچ میں ہی رہ جاتی ہے اتنے میں دوسرا آدمی آچکا ہوتا ہے۔اور بعض ا دفعہ تو ملاقات کرانے والے میں نے دیکھا ہے کہ نام جانتے بھی ہیں۔مجھے بعض دفعہ ہنسی آجاتی ہے۔آج بھی ایسا ہی ملاقات میں ہوا کہ ایک شخص کہنے لگا یہ فلاں صاحب ہیں اور وہ میں جانتا تھا وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔جس وقت انہوں نے بولنے کا ارادہ کیا اتنے میں ہمارے آدمیوں نے گھسیٹا اور تین گز پرے پھینک دیا۔اس کے بعد اب دوسرا شخص کھڑا ہوا تھا اور اُس کو وہ کہہ رہے تھے یہ فلاں صاحب ہیں۔میں چونکہ جانتا تھا اُس کو میں