انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 146

انوار العلوم جلد 24 146 نہیں۔پھر دیکھو کہ کس طرح سیدھے ہو جاتے ہیں۔دوسرے یہ ہے کہ آتے وقت نوجوانوں کو بھی واقف کر دینا چاہئے۔نئے نئے آدمی آتے ہیں کئی نئے احمدی آتے ہیں۔بعض تو اُن میں سے بھی ایسے ذہین ہوتے ہیں کہ بغیر اس کے کہ پتہ ہو وہ خود اپنے آپ ہی ساری کیفیت بتادیتے ہیں کہ فلانی جگہ سے ہیں، نئے احمدی ہیں، ہماری یہ مشکلات ہیں، ہمارے بھائی بند مخالف ہیں۔بعض عورتیں آج مجھے ملی ہیں بیعت کے وقت۔انہوں نے مثلاً اپنا بتایا۔ایک عورت نے مجھے کہا کہ میں وعدہ کر گئی تھی آپ سے کہ میں ایک آدمی کو بیعت کرواؤنگی۔میں نے اپنی ماں کو بیعت کرایا ہے اور اپنے باقی سارے مبر کو کرایا ہے صرف میرا بھائی رہ گیا ہے میں وعدہ کرتی ہوں کہ اُس کو بھی بیعت کر اؤ نگی تو اُن میں بڑی بڑی ہوشیار اور ذہین ہوتی ہیں۔کوئی وجہ نہیں ہے کہ مردوں میں وہ ذہانت نہ ہو لیکن صرف یہ ہے کہ قابل لیڈر نہیں بنائے جاتے۔اسی طرح جو کام کرنے والے ہیں اُن کو میں نے بہت سمجھایا ہے لیکن وہ سنتے نہیں جب وہ ملواتے ہیں۔عید کی ہمارے یہاں ملاقاتیں ہوتی تھیں تو اس میں بھی یہی غلطی کرتے تھے مگر وہ چونکہ بار بار میرے سامنے آتے ہیں۔یہاں ربوہ کے رہنے والے ہوتے ہیں میں نے اُن کو سکھا لیا مگر یہ جو ملاقات والے ہیں یہ نہیں سیکھتے۔ہر سال میں کہتا ہوں ملاقات کروانے والا میرے منہ کے آگے کھڑا ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس شخص کو جو اُس وقت میرے سامنے آتا ہے جس وقت اُس کی پیٹھ لیمپ کی طرف ہو چکتی ہے جب وہ اند ھیرے میں آجاتا ہے میں اُس کی شکل اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔اگر وہ ایک طرف کھڑا ہو کے ڈیڑھ گز پر ہٹ کے وہاں سے آوے تو اس گز کے اندر میں اس کی شکل بھی پہچان لوں گا اور اگر میں اس کو جانتا ہوں تب بھی پہچان لوں گا۔تو بار بار سمجھانے کے باوجو د بس ایک فٹ پر آکے کھڑا ہو جائے گا آدمی اور آپ میرے منہ کے آگے کھڑ ا ہو جائے گا اور اُس کو یوں پکڑ کے سامنے کرے گا۔جس وقت آگے کرے گا اندھیرا آجائے گا۔اند ھیرا آ جائے گا تو مجھے نظر نہیں آئے گا۔اور دوسرا آدمی پھر اُس کو دھکا دے کر باہر نکال دے گا۔تو یہ بھی اُس فائدے اور غرض کو دور کر دیتا ہے۔یہ تو