انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 144

انوار العلوم جلد 24 144 وو دیر تک بیٹھار ہو نگا۔اُس کا کوئی حق نہیں ہوتا نہ وہ جماعت کو جانتا ہے نہ کسی کا نام جانتا ہے اُس سے پوچھو تو کہتا ہے ” دسدے جان گے آپے ہی اس کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ میں پاس بیٹھ جاؤں اور اس سے زیادہ کوئی کام کرنا اس کا مقصود نہیں ہو تا۔اور جب نام پوچھو تو کہتا ہے یاد نہیں رہے۔”آپے دسن گے “پھر وہ جو آتے ہیں تو اُن کو پیچھے سے ملاقات کرانے والا جیسے بیل کو مار مار کے ٹھکور کے آگے کرتے ہیں نا، وہ دھکے دے رہا ہوتا ہے اور وہ بیچارہ اسی میں غنیمت سمجھتا ہے کہ مصافحہ ہو گیا وہ بھاگتا ہے۔اگر میں اُس کو پوچھ بھی لوں کہ تمہارا کیا نام ہے ؟ تو بیچارہ بعض دفعہ ایسا گھبرایا ہوا ہوتا ہے کہ میں کہتا ہوں آپ کا نام کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے ” گوجر انوالہ“۔کبھی میں کہتا ہوں آئے کہاں سے ہو ؟ تو کہتا ہے محمد دین۔تو اس کی انہوں نے مت ماری ہوتی ہے۔پیچھے سے دھکے دے رہے ہوتے ہیں نکل ، نکل، نکل۔اگر وہ اِس صورت کے ساتھ ملنے کے لئے آویں اور وہ بیٹھنے والا ذمہ دار شخص اپنے فرض کو ادا کرے اور وہ بیٹھ کے کہے صاحب! یہ فلاں شخص ہیں۔میری جماعت کے ہیں تو کتنا فائدہ ہو۔آج صبح بھی اور شام کی ملاقات میں بھی میں نے دیکھا کہ اکثر بیٹھنے والے وہ تھے سوائے ایک جماعت کے یعنی سرحد کی جماعت کے اکثر پٹھانوں میں میں نے دیکھا ہے چونکہ سیاسی لوگ ہیں اس لئے وہ زیادہ ہوشیاری سے کام کرتے ہیں اُن کی جماعت کو ہمیشہ ہی میں نے دیکھا ہے یعنی کوئی تو بھول جاتا ہے آدمی۔قاضی صاحب کی عمر میرے خیال میں شائد ستر سے بھی زیادہ ہو گی کیونکہ وہ مجھ سے بڑے ہوا کرتے تھے میری اب 65 کو پہنچ رہی ہے۔میرے خیال میں ستر سے زیادہ ہی ہونگے۔“ اس موقع پر بعض دوستوں نے بتایا کہ اُن کی عمر 75 سال کی ہے۔فرمایا:- لیکن یہ کہ اب بھی اُن کا حافظہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا چلتا ہے۔میرے خیال میں کوئی نوے فیصدی آدمی کو وہ جانتے ہیں حالانکہ سارے صوبہ کی جماعت ہوتی ہے کہتے چلے جاتے ہیں اور پتہ لگتا چلا جاتا ہے۔بعض میرے واقف ہوتے ہیں لیکن دفعہ شکل میں نہیں پہچانتا۔اندھیرا ہوتا ہے۔سایہ پڑتا ہے تو نام لیتے ہی میں پہچان