انوارالعلوم (جلد 24) — Page 129
انوار العلوم جلد 24 129 انشاء اللہ تعالیٰ اس سال مکمل ہو جائے گا۔چندہ تعمیر مسجد ہالینڈ تیسری تحریک میں نے عورتوں میں یہ کی تھی کہ ان کی طرف سے ہالینڈ میں مشن بنایا جائے اور مسجد بنائی جائے۔چنانچہ انہوں نے اس کے لئے بڑے شوق سے چندہ دیا اور باوجود اس کے کہ عورتوں کی آمد بہت کم ہوتی ہے پھر بھی اُن کا چندہ پہلے سال مردوں سے بڑھا رہا۔دوسرے سال جب مردوں کے چندوں کی ایک خاص نوعیت قرار دی گئی تو پھر عورتوں کا چندہ بہت گر گیا کیونکہ اُن کے لئے ایسی شرطیں کی گئیں کہ ملازم سالانہ ترقی دیویں۔عورتوں کی تو ترقی ہوتی ہی نہیں۔پھر یہ کہ تجارت والے پہلے دن کا نفع دیں۔جو چھوٹے تاجر ہیں ہر ہفتہ کے پہلے دن کا نفع دیں یا مزدور پیشہ جو ہیں وہ مہینہ کے پہلے دن کی آمد دیں یا جو ڈاکٹر اور وکیل پریکٹس کرنے والے ہیں اُن کی سالانہ آمدن کا جو ڈفرنس (DIFFERENCE) اگلے سال بڑھ جائے اُس کا دسواں حصہ دیں اور اس طرح کچھ اور بھی شرائط تھیں۔زمیندار کے متعلق اپنے کھیت پر دو آنے فی ایکڑ سالانہ چندہ مقرر کیا گیا تھا اور چونکہ ان چیزوں میں عورتیں شامل نہیں ہو سکتیں نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں کا چندہ جاری رہا اور عورتوں کا چندہ باون ہزار پر آکر رُک گیا اور اس میں بھی ہزار بارہ سو کی میری مدد ہے۔مجھے بعض دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ رقم آپ کو بھیج رہے ہیں جہاں چاہیں دے دیں تو میں نے پچھلے سال یہ طریق رکھا کہ جو عورتوں کی طرف سے آمد ہوتی تھی اُس کے متعلق میں کہتا تھا کہ مسجد ہالینڈ میں اس کو داخل کر دو۔اس طرح بھی کچھ رقم آگئی۔میں عورتوں کو اس میں حصہ لینے کے لئے پہلے اس لئے زور نہیں دیتا تھا کہ عورتوں نے ہمت کر کے سب سے پہلے اپنا ہال بنوایا ہے ابھی تک مرد بھی اس ہال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور شوری کی مجلس بھی اسی ہال میں منعقد ہوتی ہے۔مردوں کو ابھی توفیق نہیں ملی کہ وہ اپنا ہال بنوا سکیں۔تو چونکہ اُس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ ہوا اس لئے میں نے سمجھا کہ پہلے اُن کا یہ بوجھ اتر جائے۔اب کوئی پانچ ہزار روپیہ کے قریب اس کا قرضہ رہ گیا ہے امید ہے وہ پانچ چھ مہینہ میں اُتار ڈالیں گی۔پس اب وقت آگیا ہے کہ