انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 96

انوار العلوم جلد 24 96 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی نہیں۔وہ فوجی افسر ساری بات سُننے کے بعد کہنے لگا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی جماعت ملک کی خدمت کی خاطر فوج میں کام کرتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس جماعت کے اندر حُب الوطنی کا جذبہ پایا جاتا ہے اور اسی جذبہ کے ماتحت یہ جماعت کام کرتی ہے ، روپیہ کی خاطر کام نہیں کرتی۔۔۔۔۔اور میں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں کہ دوسروں پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا جتنا کہ آپ کی جماعت پر ہمیں اعتماد ہے لیکن ایک بات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ اس کا جواب دیں اور وہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی حفاظت کے لئے اس وقت اڑھائی تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔اگر ہم آپ کے ایک آدمی کی خاطر اور اس کے حق بجانب ہونے کی بناء پر دوسروں کو خفا کر لیں اور وہ ناراض ہو کر کہہ دیں کہ ہم فوج میں کام نہیں کرتے ہمیں فارغ کر دیں تو کیا آپ کی جماعت اڑھائی تین لاکھ فوج ملک کی حفاظت کے لئے مہیا کر کے دے سکتی ہے۔اگر یہ ممکن ہے تو پھر آپ کی بات پر غور کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ بات آپ کے نزدیک بھی نا ممکن ہے تو بتائیے ہم آپ کی جماعت کی دلداری کی خاطر سارے ہندوستان کی حفاظت کو کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔پس ہماری یہ حالت ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی ہماری بات کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔حکومت جو تمام رعایا سے یکساں سلوک کا دعویٰ کرتی ہے وہ بھی بعض دفعہ افسروں کی مخالفت کی وجہ سے اور بسا اوقات اس وجہ سے ہمارا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے کہ ہمارا ساتھ دینا حکومت کے لئے ضعف کا موجب ہو گا اور وہ نہیں چاہتی کہ جماعت کی بات کو مان کر ملک کی اکثریت کو ناراض کرے “ 148 اسی قسم کا ایک واقعہ 1947ء میں بھی ہوا۔یہ واقعہ بھی حضرت امام جماعت احمدیہ