انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 89

انوار العلوم جلد 24 89 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مذہبی آزادی دیں ، عالم اسلام کی ہمدردی کو حاصل کریں اور عالم اسلام بھی ان سے جاہلانہ مطالبات نہ کرے تو ان کے ہاتھ پر عرب کا جمع ہو جانا نسبتاً بہت آسان ہو گا“۔143 ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ ، جب کبھی بھی اسلامی حکومتوں اور اسلامی مفاد کا ٹکراؤ انگریزوں سے ہوا ہے، اسلامی ملکوں اور مسلمانوں کی تائید کرتی رہی ہے اور بہت سے کافر کہنے والے علماء اور ان کی جماعتوں سے بھی پیش پیش رہی ہے اس کے باوجود بھی احمدیوں کو مسلمانوں کا دشمن قرار دینا حد درجہ کا ظلم اور حد درجہ کی بے ایمانی اور حد درجہ کی ڈھٹائی ہے اور یہ کہنا کہ احمدی یہ چاہتے تھے کہ اسلامی ملک انگریزوں کے قبضے میں آجائیں ایک خطر ناک افتراء ہے۔وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ بانی سلسلہ احمدیہ نے گو مذکورہ بالا تحریر سے جماعت احمدیہ کا انگریزوں کی کیوں تعریف کی؟ رویہ مسلمانوں کے متعلق عموما اور مسلم حکومتوں کے متعلق خصوصاً واضح ہو جاتا ہے اور در حقیقت کسی مزید تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن پھر بھی ہم ایک امر کو بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مودودی صاحب کو یہ شکوہ ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی تعریف بہت جگہ پر کی ہے۔انگریز کی تعریف کرنا یا کسی اور کی تعریف کرنا اسلامی شریعت کے خلاف نہیں۔اسلامی شریعت کے خلاف یہ ہے کہ انسان جھوٹ بولے۔سو جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے جھوٹ بانی سلسلہ احمدیہ نے نہیں بولا بلکہ ان کے مخالفین نے بولا ہے۔جس زمانہ میں بانی سلسلہ احمدیہ پیدا ہوئے اس زمانہ سے پہلے پنجاب میں سکھوں کی حکومت تھی۔ان کے زمانہ میں انگریزوں کی حکومت تھی اور ان کی وفات کے چالیس سال بعد ہندوستان کے ایک حصہ میں پاکستان قائم ہوا اور ایک حصہ میں ہندوستانی حکومت قائم ہوئی۔پس بانی سلسلہ احمدیہ نے جو کچھ انگریزی حکومت کے متعلق لکھا ہے اس کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ ان کے سامنے