انوارالعلوم (جلد 24) — Page 88
انوار العلوم جلد 24 88 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی خواب دیکھ رہے تھے۔فرانس کے نمائندوں اور ان میں اختلاف ہوا اور امیر فیصل کو شام چھوڑنا پڑا۔انگریزوں نے اس کے بدلہ میں ان کو عراق کا بادشاہ بنادیا۔سیاسی طور پر عرب کی آئندہ امیدوں پر یہ ایک بہت بڑا حربہ تھا کیونکہ شام کی آزادی کا سوال بالکل پیچھے جا پڑا اور شام ا کی شمولیت کے بغیر عرب کبھی متحد نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔اس عرصہ میں بعض نئے امور پیدا ہونے شروع ہوئے۔انگریزی نمائندہ مصر نے شریف مکہ سے وعدہ کیا تھا کہ عرب کو آزاد ہونے کے بعد ایک حکومت بنا دیا جائے گا۔وہ اس وعدہ کے پورا کرنے پر زور دیتے تھے۔ادھر عرب تین طاقتوں کے اثر کے نیچے تقسیم ہو چکا تھا۔۔۔۔شریف کو غصہ تھا کہ مجھ سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔۔۔۔۔شریف نے جب دیکھا کہ ادھر انگریز ان کی اس خواہش کو پورا کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ عرب کو ایک حکومت کر دیا جائے۔۔۔۔۔اور اُدھر عالم اسلام ان کے رویہ کے خلاف ہے تو چونکہ ان کی دیرینہ خواب پوری ہوتی نظر نہ آتی تھی انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ انگریزوں کو ناراض کر لیں گے اور عالم اسلامی کو خوش۔۔۔۔۔یہ فیصلہ کر کے انہوں نے انگریزی معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو انگریزوں سے مدد ملنی بند ہو گئی۔۔۔۔۔امیر ابن سعود نے یہ دیکھ کر کہ اس سے عمدہ موقع کوئی نہ ملے گا حجاز سے ایک علاقہ کا مطالبہ کیا۔شریف حسین نے اس علاقے کے دینے سے انکار کر دیا اور وہ جنگ شروع ہو گئی جو 66 اب شروع ہے۔آخر میں آپ نے تحریر فرمایا کہ:- اگر شریف آئندہ کو اپنی اصلاح کر لیں، ترکوں سے اپنے تعلقات درست کر لیں، وہابیوں پر ظلم چھوڑ دیں بلکہ ان کو کامل