انوارالعلوم (جلد 24) — Page 75
انوار العلوم جلد 24 75 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب بتائیے ان سارے ملکوں میں کون سے احمدی بستے تھے۔کیا سلطان ابن سعود احمدی تھے ؟ کیا شریف حسین والی مکہ احمدی تھے ؟ کیا رؤسائے شام و لبنان احمدی تھے یا احمدی ہیں؟ یہ سارے لوگ ترکی سے لڑے اور ان کی لڑائی کی بنیاد یہی تھی کہ ترکی نے خود اعلانِ جنگ کیا ہے اور ان لوگوں کو اپنے ملک کے آزاد کرانے کا موقع مل گیا ہے۔اگر پانچ سات لاکھ غیر احمدیوں کے ترکی پر حملہ کرنے کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہو گئے ، وہ جہاد کے منکر نہیں ہو گئے اور اگر یہ سب علماء جو ہم پر فتویٰ لگارہے ہیں اس وقت خاموش رہے بلکہ سلطان ابن سعود یا شریف حسین کی مدح کرنے کے باوجو د کافر نہیں ہو گئے اور کشتنی اور گردن زدنی نہیں ہو گئے تو چالیس پچاس یا سوڈیڑھ سو احمدیوں کے اس جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے احمدی کیوں کشتنی و گردن زدنی ہو گئے۔وہ کیوں جہاد کے منکر ہو گئے ، وہ کیوں اسلام سے منحرف ہو گئے۔کیا سو دو سو احمدی عراق سے ترکوں کو نکال سکتے تھے۔کیا سو دو سو احمدی ابن سعود کو اس بات پر مجبور کر سکتے تھے کہ وہ ترکی کے علاقوں پر حملہ کر کے کچھ علاقے اس سے چھین لیں۔کیا سو دو سو احمدی جو اس لڑائی میں شریک ہوئے وہ شریف حسین کو مجبور کر کے سارے حجاز کو ترکی کے خلاف کھڑا کر سکتے تھے۔کیا ان سو دو سو احمدی سپاہیوں کا فلسطین اور شام اور لبنان کے مسلمانوں پر ایسا قبضہ تھا کہ وہ ان کو ترکی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔اگر یہ نہیں ہے اور ہر گز نہیں ہے تو خدا را جھوٹ بول بول کر اسلام کو بدنام نہ کرو اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ دو کہ اسلام کے علماء بھی اتنا سچ نہیں بول سکتے جتنا غیر قوموں کے عامی سچ بول سکتے ہیں۔اگر سو دو سو کے اس فعل سے احمدی واجب القتل ہیں تو پہلے ان سارے علماء کو قتل کرو، ان سارے امراء کو قتل کرو، ان سارے رؤساء کو قتل کرو جنہوں نے خود لڑائی کی یا جن کی قوم غیر احمدیوں میں سے اس لڑائی میں ترکی کے خلاف لڑی۔ہر موقع پر خود گھروں میں جا چھپنا اور اسلام کی تائید میں انگلی تک نہ اُٹھانا لیکن جب وہ طوفان ختم ہو جائے تو احمدیوں پر اعتراض کرنا کیا یہ شیوہ بہادری ہے یا یہ شیوہ حیا ہے؟