انوارالعلوم (جلد 24) — Page 582
انوار العلوم جلد 24 582 سال 1954ء کے اہم واقعات رکھے ہوئے ہیں۔غرض عجیب نقشہ اُس نے بتایا کہ رات دن وہ لگے رہتے ہیں اور اس طرح ان کی آمدن ہوتی ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ اٹیلین معیار پر جو انگریزوں سے کم ہے لیکن ہم سے بہت زیادہ ہے آپ بھی گزارہ کرتا تھا، اس داماد کو بھی دیتا تھا، اپنی بہن کو بھی بھیجتا تھا اور تین مزارع بھی اس میں سے گزارہ کرتے تھے۔کوئی وجہ نہیں ہے کہ اگر ہمارے ملک کے لوگ محنت کریں تو ان کو دولت نہ ملے لیکن یہاں تو یہ ہوتا ہے کہ سندھ میں ہماری کچھ زمینیں ہیں۔پنجاب کی حالت تو پھر بھی اچھی ہے لیکن وہاں یہ حالت ہے کہ صبح کے وقت مالک کے نوکر زمینداروں کو کھینچ کھینچ کر اور ترلے کر کر کے اور منتیں کر کر کے اور بعض دفعہ دھمکیاں دے کر لاتے ہیں کہ چل کر ہل چلاؤ یا پانی دو۔اور اگر کسی فصل سے گزر گئے ہیں اور پانی نظر آتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ پانی کس طرح آگیا ہے ؟ تو زمیندار کہتا ہے کسی نوکر سے کروالیا کر دیا مجھ سے پیسے لے لیا کرو۔۔۔۔۔۔مجھ سے رات کو نہیں جا گا جاتا۔اب بتاؤ جنہوں نے اس قسم کی محنت کرنی ہے انہوں نے کمانا کیا ہے اور انہوں نے کھانا کیا اور انہوں نے کھلانا کیا ہے۔اگر تم واقع میں صحیح محنت کرو تو دنیا میں ایک ایکڑ پر لوگ ہزار دو ہزار روپیہ کماتے ہیں اور تم بھی کماسکتے ہو۔تم اگر ہزار میں سے دو سو بھی کمانے لگ جاؤ تو تمہاری حالت بدل جائے۔یہاں ہماری ہولڈنگ چھ سات ایکٹر کی ہے مگر ان ملکوں میں دو تین ایکڑ کی ہے۔اگر فرض کرو ہزار روپیہ نہیں دوسو روپیہ بھی فی ایکڑ آجائے تو بارہ سو ہو گیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ سو روپیہ مہینہ زمیندار کی آمدن ہو گئی اور سو روپیہ مہینہ انٹرنس والے کو دس پندرہ سال کے بعد جاکر ملتا ہے۔غرض تمہارے چندے بھی اس پر منحصر ہیں اور تمہاری اپنی حالت بھی اس پر منحصر ہے اور تمہاری اپنی خدمات بھی اور تمہاری قومی ترقی بھی اس پر منحصر ہے۔اگر تم ان کاموں کو کرنے لگ جاؤ اور اپنی اخلاقی حالت درست کرو تو تم یقیناً دوسروں سے بڑھ جاتے ہو۔اسی طرح پیشہ ور ہیں اگر پیشہ ور محنت کے ساتھ کام کریں تو میں سمجھتا ہوں کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے سب ڈاکٹروں کو چھوڑ کر لوگ احمدی ڈاکٹر کے پاس نہ آئیں۔اگر