انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 581

انوار العلوم جلد 24 581 سال 1954ء کے اہم واقعات کہ وہ اپنا معیارِ اخلاق کیوں نہیں بلند کرتے۔یہی زمین ہے جس کے متعلق جاپان میں گورنمنٹ پاکستان کے آدمی گئے تھے تو انہوں نے آکے رپورٹ کی کہ وہاں فی ایکڑ دو ہزار روپیہ اوسط آمدن ہے۔ہمارے ہاں فی ایکڑ دس پندرہ میں پچاس حد سے حد آمد ہے۔مربع والی زمینوں میں سو دو سو ہے اس سے زیادہ نہیں اور وہ سو دو سو انتہائی اعلیٰ درجہ کی زمینوں کا ہے لیکن وہاں انہوں نے بتایا کہ عام سٹینڈرڈ دو ہزار کا ہے اور تین ایکڑ فی خاندان ملا ہوا ہے چھ ہزار روپیہ کماتے ہیں جو پانچ سو روپیہ مہینہ بنتا ہے۔اسی طرح اٹلی کے ہمارے ایک مبلغ تھے وہ آئے ہم نے مجبوری کی وجہ سے ان کو الگ کر دیا تھا کیونکہ ہمارے پاس خرچ نہیں تھا۔ہم نے کہا تم نے دو سال کس طرح گزارے؟ انہوں نے کہا میر اخسر میری مدد کیا کرتا تھا۔انہوں نے ایک انگریز لڑکی سے شادی کی ہوئی ہے۔میں نے کہا تمہارے خسر کی کیا آمد ہے ؟ کہنے لگے اب تو کوئی آمدن ان کی نہیں ہے مگر ان کا جو باپ تھاوہ وہاں انگریزوں کا قنصل تھا اور پھر وہ وہیں رہ گیا تھا۔اس نے وہاں چودہ ایکٹر زمین خرید لی تھی۔بیٹے پر اس کو کچھ اعتبار نہیں تھا اُس نے وہ ساری زمین بیٹی کے نام کر دی۔آگے بیٹی کے حالات کچھ ایسے اچھے ہو گئے کہ اس کو اس زمین کی آمدن کی چنداں ضرورت نہ رہی۔اس نے اپنے بھائی کے ساتھ احسان کیا اور وہ چودہ ایکٹر زمین اس کو دے دی اور اب وہ اس کے ذریعہ آپ بھی کھاتا ہے اور مجھے بھی دیتا ہے۔میں نے کہا وہ خود کاشت کرتا ہے ؟ کہنے لگا نہیں وہ زمین اس نے آگے تین مزارعوں کو دی ہوئی ہے۔اب گواٹلی کا معیار انگلینڈ سے کم ہے لیکن ہم سے تو پھر بھی تین چار گنے زیادہ ہی ہے۔میں نے کہا تو اس معیار پر وہ تین مزارع کماتے ہیں پھر وہ اس کو دیتے ہیں، وہ آگے تم کو دیتا ہے ؟ کہنے لگا نہیں جی وہ اپنی بہن کو بھی بھیجتا ہے۔میں نے کہا پھر تو بات اور زیادہ مشکل ہو گئی تمہاری آمدن کہاں سے ہوتی ہے ؟ اس پر پھر میں نے لمبی جرح کی اور اس نے بتایا کہ اس اس طرح وہ محنت کرتے ہیں، پولٹری فارم بھی انہوں نے بنایا ہوا ہے ، ڈیری فارم بھی انہوں نے بنایا ہوا ہے اور شہد کی مکھیاں بھی رکھی ہوئی ہیں اور پھولوں کے پودے بھی رکھے ہوئے ہیں جن سے وہ پھول اگاتے ہیں اور پھل بھی