انوارالعلوم (جلد 24) — Page 545
انوار العلوم جلد 24 545 سال 1954ء کے اہم واقعات آپریشن ابھی ہونا چاہئے۔چاہے رات کے وقت تکلیف بھی ہو گی لیکن آپریشن ضرور کرنا پڑے گا چنانچہ میں اس پر راضی ہو گیا۔کہنے لگے بے ہوش کیا جائے ؟ میں نے کہا مجھے بے ہوش نہ کریں یونہی آپریشن کرو خداتعالی توفیق دے دے گا اور میں اس کو برداشت کروں گا۔چنانچہ ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب آئے اور خواب آور ٹیکا لگوا دیا۔پھر ایک گھنٹہ بارہ منٹ تک انہوں نے آپریشن کیا، صفائی کی اور خون کے لوتھڑے نکالے انہوں نے بعد میں بتایا کہ حملہ سے ایک بڑا عصبہ کٹ گیا ہے۔دو درمیانی سائز کی خون کی رگیں کٹ گئی ہیں اور سوا دو انچ گہرا اور سوا دو انچ لمبا حصہ عضلات کا کٹ گیا ہے بہر حال کوئی ایک گھنٹہ بارہ منٹ کام کرنے کے بعد وہ فارغ ہوئے اور صبح چلے گئے۔دوسرے دن گردن و غیرہ کی درد کی تکلیف رہی۔اور چونکہ میں گردن کو ہلا نہیں سکتا تھا اس لئے ایک تکیہ ایسا بنا دیا گیا جس کے بیچ میں شگاف کر دیا گیا تا کہ زخم کی جگہ تکیہ پر نہ لگے بہر حال آجکل حفظان صحت کے جو قوانین مقرر ہیں ان کے لحاظ سے ایک عرصہ مقررہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے آرام دے دیا۔پورا آرام تو کوئی بائیس تئیس دن میں آیا لیکن زخم کے ٹانکے شاید آٹھویں یا دسویں دن کھول دیئے گئے۔خون کے متعلق بھی دوستوں نے بتایا کہ جہاں تک آپ آئے ہیں وہاں تمام جگہ پر جیسے خون کے چھپڑ بنے ہوئے ہوتے ہیں اسی طرح اچھے خاصے چھپڑ بنے ہوئے تھے۔وہ لباس جس پر خون لگا ہوا ہے ہم نے اب تک رکھا ہوا ہے۔وہ بھی خدا تعالیٰ کے نشانوں کی صداقت کا ایک ثبوت ہے۔حکومت کی طرف سے ان دنوں بڑی ہمدردی کا اظہار ہوا۔خود گورنر صاحب کی طرف سے بھی ہمدردی کی گئی، وزیر اعظم صاحب کی طرف سے ایک دفعہ دوسرے نے اور پھر انہوں نے خود بھی فون کر کے بات کی۔اسی طرح کمشنر صاحب بھی آئے ، ڈی آئی جی بھی آئے ، ڈپٹی کمشنر بھی آئے ، سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی آئے لیکن حکومت ضلع کی مصلحت یہی معلوم ہوتی تھی کہ اس معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے چنانچہ ایک موقع پر ایک بالا افسر نے اس خیال کا اظہار بھی کیا۔ایسے مقدمات میں پولیس کی طرف سے عموماً عدالت میں کپڑے بھی پیش کئے جاتے ہیں وہ بھی