انوارالعلوم (جلد 24) — Page 544
انوار العلوم جلد 24 544 سال 1954ء کے اہم واقعات وہ گھبر ائے ہوئے مگر انہوں نے اتنی احتیاط کی کہ اوزاروں کو اچھی طرح سٹرلائز کر کے یعنی جراثیم کو پوری طرح مار کر کام شروع کیا لیکن میرے احساس کی خاطر اندر سے زخم کی صفائی نہیں کی اور باہر سے ٹانکے لگا دیئے اتفاقا کسی کو گھر میں خیال آیا اور اس نے لاہور میں میرے لڑکے مرزا ناصر احمد کو فون کر دیا کہ اس طرح حملہ ہوا ہے۔مرزا ناصر احمد نے مرزا مظفر احمد کو بتایا جو میرا داماد بھی ہے اور بھتیجا بھی ہے۔انہوں نے اپنے طور پر (ہم نے تو نہیں کہا تھا اور نہ ہمیں خیال تھا۔) ایک ڈاکٹر کو کہا کہ تم وہاں چلو اور چل کر دیکھو۔ڈاکٹر امیر الدین صاحب جو لاہور کے سر جن ہیں انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج کے یونیورسٹی کے امتحانات ہو رہے ہیں اور کل میں نے لڑکوں کا امتحان لینا ہے اس لئے میں نہیں جاسکتا۔پھر انہوں نے ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب سے کہا اور وہ ان کو لے کر آگئے۔ان کے ساتھ بعض دوسرے ڈاکٹر بھی آگئے مثلاً ڈاکٹر مسعود صاحب پہنچ گئے ، ڈاکٹر محمود اختر صاحب جو قاضی فیملی میں سے ہیں(مسعود احمد صاحب بھی قاضی فیملی میں سے ہی ہیں) وہ بھی پہنچ گئے۔یہ میو ہسپتال میں کلوروفارم دینے پر افسر مقر ر ہیں۔ڈاکٹر یعقوب صاحب غالباً ان سے پہلے آچکے تھے اور وہ گر بھی گئے تھے شیخ بشیر احمد صاحب ڈاکٹر صاحب اور چودھری اسد اللہ خاں صاحب لاہور سے آرہے تھے۔گھبراہٹ میں انہوں نے شاید موٹر تیز چلوا دیا تو موٹر گر گیا جس کی وجہ سے یہ سارے زخمی ہوئے اور قریباً ہر ایک کی ہڈیوں کو ضرب پہنچی۔کسی کی کہنی کی ہڈی ٹوٹی اور کسی کی سینے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔بہر حال ڈاکٹروں نے زخم کو دیکھا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک تو اس کا پھر آپریشن کرنا پڑے گا۔میں نے کہا مجھے اتنی کوفت ہو چکی ہے اور اب رات کے ایک بجے کا وقت قریب آگیا ہے اگر آپ صبح تک انتظار کر سکیں تو کیا حرج ہے۔وہ گئے کہ اپنا مشورہ کر کے بتاتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر مسعود صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کہتے ہیں کہ گردن پر ورم ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر خون جاری ہے اور کوئی رگ پھٹی ہوئی ہے اسلئے صبح تک انتظار کرنا خطر ناک ہے اگر اور انتظار کیا گیا تو خون میں زہر پیدا ہو جائے گا۔اور انہیں اصرار ہے کہ ا